5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
گلگت شہر میں20سال بعد برف باری،بالائی علاقوں میں بارشیں
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ملک کے شمالی اور بالائی علاقوں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں جبکہ گلگت شہر میں20سال بعد ہونیوالی برف باری سے شہری خوب انجوائے کررہے ہیں۔ اسکردو شہر سمیت ضلع کے نشیبی اور بالائی علاقوں میں شدید برف باری کے سبب معمولات زندگی معطل ہیں۔شہر میں اب تک آٹھ انچ برف پڑچکی ہے ۔گلگت شہر میں بیس سال بعد آج صبح اچانک برف باری کا سلسلہ شروع ہوگیا جس سے شہری خوب لطف اندوز ہورہے ہیں تاہم لکڑی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے سے پریشان بھی ہیں۔ غذراوراستور میں دو روز سے جاری برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہوگئیں ۔ گھروں کی چھتوں پر برف کی تہہ جم چکی ہے اور لوگ محصورہوکررہے گئے ہیں۔دیامر میں پندرہ گھنٹوں سے جاری شدید برف باری نے نظام زندگی مفلوج کردیا ہے۔ ضلع کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔مانسہرہ کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔بٹہ کنڈی اور ناران میں اب تک پانچ انچ تک برف پڑ چکی ہے۔لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ کاغان اور دیگر رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ایبٹ آباد میں بارش اور گلیات کے مختلف علاقوں میں بھی برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ملکہ کوہسار مری میں دو روز کی بارش کے بعد آج صبح سے برفباری کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا اور اب تک تین انچ برف پڑ چکی ہے۔شمالی بلوچستان کے علاقوں زیارت،خانو زئی،کان مہتر زئی اور کوژک ٹاپ پر گزشتہ رات شدید برفباری ہوئی ۔کوئٹہ چمن شاہراہ پر شدید پھسلن کے باعث افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی بھی معطل ہے۔مظفرآباد میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ وادی نیلم سمیت بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے بالائی وادی نیلم ، لیپہ اور فارورڈ کہوٹہ کا زمینی رابطہ منقطع ہے ۔قبائلی علاقے پاراچنار میں کوہ سفید ایک بارپھر برف باری کی لپیٹ میں ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے پہاڑوں پر پڑنے والی برف سے سڑکیں ڈھک گئی ہیں۔لوئر دیر میں بھی دو روز سے جاری بارش سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔