تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
15 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 7:1

سندھ میں 6 نادراور تاریخی مورتیاں دریافت ، قدیم شہر کی موجودگی کا امکان

جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو......قحط، فاقہ کشی،غربت اور حکومتی بے توجہی کا شکار بننے والے صحرائے تھر کے قریب کھدائی کے دوران چھ نادر مورتیاں ملی ہیں ۔ ماہرین آثار قدیمہ نے اس مورتیوں کے بغور مشاہدے کے بعد یہ امکانات ظاہر کئے ہیں کہ ہوسکتا ہے یہاں گندھارا اور ہاکڑا تہذیب کے زمانے کے شہر مدفن ہوں۔

بدین اور تھرپارکراضلاع کے سرحدی علاقے میں ِ” جار جو پتن“ گاؤں کے قریب تاریخی اشیا کی تلاش میں کھدائی کرنے والے مزدور حبیب اللہ لند کو ’جنگ ‘سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ وہ سالوں سے تاریخی مقامات پر کھدائی کرتے آئے ہیں اور اس کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دو ہفتے قبل نؤں کوٹ سے60کلومیٹر دو یوسی کلوئی میں ہاکڑو ندی کے قریب انہیں چھ مورتیاں اور کچھ سکے ملے ہیں۔حبیب اللہ لنداسی علاقے کے رہائشی ہیں اور ان کی اپنی زمین بھی ہاکڑو ندی کے کنارے موجود ہے۔

حبیب اللہ کے مطابق تاریخی مورتیوں اور سکے برآمد ہونے کی خبر پر ایس ایس پی بدین ابرار حسین نیکوکار اسلام آباد کی ایک مہمان خاتون کے ساتھ ان سے ملنے آئے تھے اور پانچ ہزار روپے انعام دے کر ان سے پیتل کی بنی ہوئی ایک تاریخی مورتی اپنے ساتھ لے گئے۔

ایس ایس پی بدین نے حبیب اللہ لند کو بتایا کہ وہ اس تاریخی مورتی کو تحقیق کے لئے اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔ رپورٹ آنے کے بعدانہیں مزید انعام دیاجائے گا لیکن دو ہفتے گزرجانے کے باوجود حبیب اللہ سے ایس ایس پی سمیت کسی بھی مقامی عملدار نے رابطہ نہیں کیا۔ واقعے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی حنیف سموں کے مطابق ایس ایس پی ابرار کے ساتھ جو خاتون آئی تھی وہ ان کی کلاس فیلو تھی۔

حبیب اللہ لند نے بتایا ہاتھ آنے والی چھ مورتیوں میں سے ایک مورتی پیتل کی تھی جو ایس ایس پی لے گئے جب کہ باقی پانچ مورتیاں پتھر اور ہڈیوں کی بنی ہوئی معلوم ہوتی ہیں جو ابھی تک ان کے پاس موجود ہیں، مورتیوں کو دیکھنے والے مئورخین اور آثار قدیمہ کے مقامی ماہرین کا خیال ہے کہ مورتیاں گندھارا اور ہاکڑہ تہذیب کے دور کی ہیں۔

ڈائریکٹر آرکیالوجی قاسم علی قاسم نے جنگ کو بتایا کہ چھ میں سے تین مورتیاں گندھارا تہذیب کی مورتیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جبکہ ایک مورتی ہندو تہذیب اور ایک آورجی تہذیب جاپان کی مورتیوں سے مشابہت رکھتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہاں کبھی گندھارا یا ہاکڑا تہذیب کا شہر موجود تھا۔

مورتیاں گندھارا تہذ یب کی مورتیوں کے طرز پر بنی ہوئی ضرور ہیں لیکن تمام مورتیاں اس قدر شفاف اور مکمل صورت میں ہیں کہ ان کے تاریخی ہونے پر شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، مئورخ اور لکھاری عبدالقادر جونیجو اور اسحاق مگریو کے مطابق کھدائی میں ملنے والی مورتیوں کے بعد اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں ہاکڑا تہذیب کا شہر موجود تھا۔

آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر قاسم علی قاسم نے ’جنگ ‘کو بتایاکہ مورتیاں ملنے کے بعد محکمہ آرکیالوجی نے ”سروے آف لوئر سندھ“ کے نام سے منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت، ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر اور عمرکوٹ سمیت میرپورخاص اور سانگھڑ اضلاع میں موجود تاریخی جگہوں کا معائنہ کیا جائے گا۔


گندھارا یا بدھ مت تہذیب
گندھارا تہذیب جسے بدھ مت تہذیب بھی کہا جاتا ہے 400قبل مسیح سے ساتویں عیسوی صدی تک دنیا میں موجود رہی ۔گندھارا تہذیب یونانی، ساکا، یارتھی، کشن اور بدھ مت تہذیبوں کا نچوڑ ہے جس کا مرکز پنجاب کا شہر ٹیکسلا تھا لیکن اس کی جڑیں پشاوراور پہاڑی علاقوں سمیت افغانستان اور وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں لیکن اس کی جڑیں تھرپارکر میں ہونے کے شواہد نہیں ملتے۔

انگریز مئورخ ڈبلیو ایف کیرو کی کتاب ” گندھارا کی عبادت گاہیں “ کے مطابق گندھارا کی سرحدیں افغانستان، روس اور چین کے سرحدی علاقے مانکیالا کا اسٹوپا تک پھیلی ہوئی تھیں جبکہ گندھارا کا مرکز صوبہ سرحد تھا جو ٹیکسلا تک پھیلا ہوا تھا۔

مئورخین کے مطابق ہاکڑہ تہذیب سندھو اور یونانی تہذیب جتنی ہی پرانی ہے ، ہاکڑہ ندی قبل مسیح سے پہلی کی تہذیب تھی لیکن 1255ء تک ہاکڑہ ندی خشک ہوچکی تھی۔ ہاکڑہ ندی چولستان، راجستھان، جودھپور، سرسوتی اور دریائے ستلج سے گزرتی ہوئی پنجاب کے ریگستان کو خوشحال کرنے کے بعدصحرائے تھر تک آتی تھی جہاں سے یہ مورتیاں ملی ہیں۔

ایس ایس پی بدین کی جانب سے کلاس فیلو لڑکی کو دی گئی پیتل کی مورتی کوواپس لانے کے لئے محکمہ آرکیالوجی نے آئی جی سندھ غلام حیدرجمالی کو سفارش کی ہے لیکن ابھی تک مورتی واپس نہیں ہوسکی جبکہ پتھر اور ہڈیوں کی بنی ہوئی مورتیوں کو بھی محکمہ آرکیالوجی نے اپنی تحویل میں نہیں لیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.