17 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:37
2007ءمیں کشمیرپرپاک بھارت حتمی معاہدہ طے پاگیاتھا‘ستندرلامبا
جیو نیوز - کراچی.....رفیق مانگٹ…سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے خصوصی ایلچی ستندرلامبانے دعویٰ کیا ہے کہ 2007میں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر ایک حتمی معاہدے پر راضی ہو گئے تھے۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے موقف سے پاکستان دستبردار ہونے پر راضی ہوگیا تھا۔پاکستان نے یہ بھی اتفاق کرلیا تھا کہ سرحدوں کی اب دوبارہ حد بندی نہیں ہوگی۔
بھارتی اخبار’ ہندوستان ٹائمز‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ستندر لامبا نے انکشاف کیا کہ کشمیر پردونوں اطر ا ف کی قیادت نے ایک معاہدے پر اصولی اتفاق کرلیا تھا۔ اس معاہدے کا حتمی مرحلہ صرف دستخط کا رہ گیا تھا کہ اسی دوران پاکستان کی داخلی سیاست میں ہلچل مچی اور پرویز مشرف فارغ ہوگئے۔
معاہد ے میں طے پاگیا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد یا کشمیر میں رائے شماری کا کوئی حوالہ نہیں ہو گا۔ دونوں ممالک کے درمیان فریم ورک سمجھوتے کی تفصیلات میں جا ئے بغیر لامبا نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کو بھی اس معاہدے پر اعتماد میں لیا گیاتھا تاہم بھارت کی حکمراں پارٹی کے اندر اور حزب اختلاف کے رہنماوٴں کے ساتھ اس معاہدے پربات چیت کی ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے (صدر مشرف کے ماتحت ) اس وقت کی فوجی حکومت سے یقین دہانی حاصل کی تھی‘اگر اسٹیبلشمنٹ کا اتفاق نہ ہوتا تو پاکستان کی طرف سے مذا کر ا ت کار کبھی اس کو حتمی شکل نہیں دے سکتے تھے۔
لامبا نے کہا کہ ہم نے فوج میں کمی پر اتفاق کیا تھا ، پیرا ملٹری پر نہیں اور یہ پاکستان سے مشروط تھا کہ دشمنی، تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنائے‘انہوں نے کہا یہ ایک اہم شرط تھی۔
معاہدے پر دستخط کرنے کی کوئی ٹائم لائن نہیں تھی‘ اگر کوئی ٹائم لائن تھی تو وہ دہشت گردی خاتمہ تھا۔ 2008میں ممبئی حملوں کی وجہ سے مذاکرات رک گئے‘یہ افسو ناک واقعہ تھا اور بات چیت بند کر دی گئی‘ ممبئی حملوں کے بعد بیک ڈور رابطے محدود تھے۔