1 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:36
پاکستان کے عظیم رائٹر، فلم ساز و ہدایت کار ریاض شاہد کی برسی
جیو نیوز - کراچی......مشتاق سبحانی......ریاض شاہد پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں نہایت اہم شخصیت تھے ۔ انہوں نے بامقصد کہانیوں ، متاثر کن مکالموں اور معیاری ہدایت کاری کے نمونے دیئے اور معیاری فلمیں بنائیں۔ ان کا نام فلموں کی کامیا بی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔لوگ ان کے نام پر فلمیں دیکھتے تھے۔
ان کے تحریر کردہ مکالمے فلموں کی جان ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے کئی مکالمے آج بھی لوگوں کو ازبر ہیں۔انہوں نے ہمیشہ # سماجی برائیوں، سامراجیت اور استعماریت کے خلاف کہانیاں لکھیں اورخودبھی ان پر معرکتہ الآراء فلمیں بنائیں۔
کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والے ریاض شاہد کا اصل نام شیخ ریاض تھا۔ وہ 27اپریل1930ء کو لاہور میں پیداہوئے، سیا لکوٹ سے میٹرک کیا۔ لاہور واپس آکر کالج میں داخلہ لیا۔پڑھائی کے دوران انہیں شاعری، کہانی نویسی اور اداکاری کا شوق ہوگیا۔اْن دنوں تحریکِ پاکستان زوروں پر تھی۔ ریاض اسلامیہ کالج میں طلباء کی انجمن کے سیکریٹری تھے۔جب خضر حکومت نیشنل گارڈز کی تنظیم کو خلاف ِقانون قرار دے کر سول نافرمانی کرنے والوں کو دھڑادھڑ گرفتار کرنے لگی تو ریاض شیخ نے بھی اپنے بھائی فیاض شیخ کے ساتھ سیاسی مظاہروں میں حصہ لیا ۔وہ ولولہ انگیز تقریریں کرنے کے باعث گرفتار بھی ہوئے اور جب خضر وزارت ٹوٹی تو وہ ایک ماہ کی قید کے بعد رہا ہوگئے۔
اب پاکستان بن چکا تھا۔ بھارت سے جوق در جوق آنے والے تباہ حال مہاجرین کے لئے لاہور میں قائم کردہ کیمپوں میں ریاض اور فیاض نے بھی دیگر رضاکاروں کے ہمراہ ان کی دیکھ بھال کے فرائض تن دہی سے انجام دئیے۔ ان خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیا قت علی خان نے انہیں تعریفی اسناد سے نوازا۔
اپنی انہی سرگرمیوں کے باعث ریاض تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ وہ مصوری اور مطالعہ اور پھر لکھنے لکھانے کی جانب مائل ہوگئے ۔ عملی زندگی کا آغازانہوں نے صحافت سے کیا۔ پہلے ہفت روزہ ”نظام“ کے لئے لکھتے رہے، پھر ہفت روزہ ”چٹان“ کے ادارئہ تحریر سے وابستہ ہوئے۔ بعد میں ہفت روزہ”لیل و نہار“ کا اجراء ہوا تو اس کے ادارتی عملے میں شامل ہوگئے۔
اس رسالے کے لئے ریاض شاہد نے بھاٹی گیٹ کے عوامی کرداروں پر فیچر لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو اس قدر مقبول ہوا کہ انہوں نے 1958ء میں ان کہانیوں کا مجمو عہ”ہزار داستان“ کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔
ریاض شاہد ”لیل و نہار“میں فیچر لکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے فلمی صفحات کی ترتیب و تدوین کا کام بھی کرتے تھے۔فلموں پرلکھنے کی وجہ سے ان کا نگارخانوں میںآ نا جانا ہوا تو انہیں احساس ہوا کہ وہ فلمی دنیا میں آکر تعمیری و تخلیقی کام بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔لہذا وہ فلموں کی کہانیاں لکھنے لگے۔
ریاض شاہد نے دو فلموں”نیند‘اور ”بھروسہ“کی کہانیاں لکھیں جو بے حد کامیاب رہیں۔ ”نیند“ کے لئے انہیں1959ء کے بہترین مکالمہ نگار کا ”نگارایوارڈ“ملا۔
پھر انہوں نے”جائیداد“،”گلشن“ اور ”راز“کے مکالمے تحریر کئے۔بعد میں فلم ساز و ہدایت کار خلیل قیصر کے لئے ”کلرک“ کی کہانی اور مکالمے لکھے۔خلیل اورریاض میں خوب نبھی اور دونوں نے”شہید“ بنائی جسے ملک بھر میں حد درجہ پذیرائی حاصل ہوئی۔اس فلم کو نو نگار ایوارڈز ملے جن میں بہترین فلم کا اعزاز بھی شامل تھا۔خلیل بہترین ہدایت کار اور ریاض بہترین کہانی نویس اور بہترین مکالمہ نگارقرار دئیے گئے۔
اب ریاض خود بھی فلم سازی اور ہدایت کاری کی جانب مائل ہوگئے اور”سسرال“کے نام سے ذاتی فلم بنائی جو تجارتی لحاظ سے تو زیادہ کامیاب نہ ہوسکی مگر ریاض شاہد کے کیرئیر کا اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔اگلے سال انہوں نے فلم ”شکوہ“ کی مکالمہ نگاری پر نگار ایوارڈ حاصل کیا۔پھر اس سے اگلے سال یعنی 1964ء میں فلم ”خاموش رہو“ کی کہانی اور ”فرنگی“میں مکالموں پر نگار ایوارڈز وصول کئے۔اس طرح انہوں نے صرف پانچ برسوں میں چھ نگار ایوارڈز جیت کرریکارڈ قائم کیا۔
ریاض شاہد مسلسل فلموں کے لئے کہانیاں اور مکالمے لکھتے رہے۔”دوشیزہ“،”اندھی محبت“، ”مجاہد“ ، ”رواج“، ”مجبور“، ”آگ کا دریا“،”سوال“، ”بد نام“، ”باغی سردار“، ”گنہگار“،” ماں باپ“، ”شعلہ اور شبنم“ اور” لہو پکارے گا “کے علاوہ انہوں نے پنجا بی فلموں کے لئے بھی کہانیاں اور مکالمے لکھے، جن میں ”نظام لوہار“، ”ماجھے دی جٹی“ اور”مسٹر اللہ دتہ“شامل تھیں۔
بعد ازاں انہوں نے فلسطین کی مجاہدہ زرقا پر اسی نام سے فلم بنائی۔یہ کردار اداکارہ نیلو نے ادا کیا جو اب ان کی رفیقہ حیات بن چکی تھیں۔فلم ”زرقا“ نے ملک کے طول و عرض میں بے پناہ کامیابی سمیٹی اور اسے آٹھ نگار ایوارڈز ملے۔نیلو نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا جبکہ ریاض شاہد نے بہترین فلم ساز، ہدایت کار اور کہانی نویس کے ایوارڈز وصول کئے۔
اس سے قبل ریاض نے فلم ”جنگِ آزادی“ کے مکالمے لکھے۔پھر ”غرناطہ“ کی کہانی و مکالمے تحریر کئے اور ہدایات بھی دیں۔یہ فلم بھی کامیاب رہی۔اس کے بعد انہوں نے مسئلہ کشمیر پر فلم بنائی جو ”یہ
امن“ کے نام سے نمائش پذیر ہوئی۔اسے بھی بیحد سراہا گیا۔اب وہ بیمار رہنے لگے اور خون کے سرطان میں مبتلاء ہوگئے۔اس کے باوجود ان کا تخلیقی سفر جاری رہا۔انہوں نے ”ایک رات“،”حیدر علی“ اور ”آدھی رات“کے مکالمے لکھے۔
”جواب دو“ اور پنجابی فلم ”ڈاکو تے انسان“کے منظرنامے تحریر کئے۔اپنے بھائی کے لئے فلم ”زخمی“لکھی اور ہدایات بھی دیں۔اسی دوران میں وہ سخت علیل ہوئے اور یکم اکتوبر 1972ء کو اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔
ریاض شاہد اور عابدہ ریاض(نیلو) کی اولاد میں ایک بیٹی زرقا اور دو بیٹے سروش اور شان شامل ہیں۔چھوٹے بیٹے شان اِس وقت فلمی صنعت کے ایک بڑے ہیرو ہیں جو کئی فلموں کی ہدایت کاری بھی کر چکے ہیں۔