تازہ ترین سرخیاں
 شوبز 
1 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 12:20

دس برس پہلے ’کوئن‘ جیسی فلموں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے:ہمانشو

جیو نیوز - ممبئی…حالیہ برسوں میں فلم ”کوئن“، ”وکی ڈونر“، ”تنو ویڈز منو“، ”پیکو“ اور ”تنو ویڈز منو ریٹرنز“ جیسی فلموں نے نہ صرف نئے طرح کا سینما پیش کیا ہے بلکہ فلم انڈسٹری کونئے ا سکرپٹ رائٹر بھی عطا کئے ہیں۔

مذکورہ فلموں میں نہ تو اسٹار پاور تھا اور نہ ہی بالی وڈ مصالحہ مووی فارمولا۔۔ لیکن اس کے باوجود ان فلموں نے شائقین کو تفریح فراہم کی اور باکس آفس پر بھی اچھا بزنس کیا۔اسی کا اثر ہے کہ ان دنوں بالی وڈ کی فلموں میں کہانیوں کے موضوع سے لے کر انھیں پیش کرنے کا طور طریقہ بھی بدلا ہے۔ویسے تو آج بھی ایک خاص اداکار کی مرکزیت والی فلمیں بن رہی ہیں لیکن اب ان فلموں کی تعداد بڑھ گئی ہے جن میں کہانی اور کرداروں کو مرکزی درجہ حاصل ہوتا ہے۔

سن 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم ’تنو ویڈز منو‘ نے کنگنا رناوت کو ایک مضبوط اداکارہ کے طور پر ناظرین کے سامنے پیش کیا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے نے جب اس فلم کا اسکرپٹ لکھنے والے ہمانشو شرما سے بالی وڈ میں آنے والی اس تبدیلی کے بارے میں بات کی تو انھوں نے کہاکہ ہاں، تبدیلی تو آئی ہے۔

دس برس پہلے ’کوئن‘ اور ’پیکو‘ جیسی فلموں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔مختلف اور نئے موضوعات پر مبنی فلموں کے بارے میں ہمانشو کہتے ہیں: ’اب ناظرین کی بھی ایک بڑی تعداد نئے انداز کو پسند کرتی ہے۔ میں اس دور کو ایک اچھا وقت مانتا ہوں۔ہمانشو اس تبدیلی کے لیے ناظرین اور فلمسازوں کی بدلتی سوچ کو ذمہ دار مانتے ہیں جو آج کل روایت سے ہٹ کر فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.