تازہ ترین سرخیاں
 شوبز 
3 مئی 2016
وقت اشاعت: 1:40

فلم کے ذریعے خواتین کا اصل چہرہ سامنے لائی ہوں، شرمین

جیو نیوز - کراچی ......مدیحہ بتول ......پاکستان کے لئے دو مرتبہ آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ڈائریکٹر شرمین عبید چنائے نے کہا ہے کہ فلم کے ذریعے خواتینکا اصل چہرہ سامنے لانے کی کوشش کی ہے لیکن تاثر یہ مل رہا ہے کہ گویامیں نےپاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہو مگر میں کہتی ہوں ، میں نے مسائل میں گھری خواتین کا اصل چہرہ سامنے لانے کی کوشش کی ہے ، یہ چہرہ مکمل اورحقیقی ہے۔‘

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ جنگ اور جیو ویب ڈیسک کی نمائندہ بھی اس کانفرنس میں موجود تھی۔ اس سوال پر کہ انہوں نے اس قدر حساس مسئلے کو ہی اپنی فلم کا موضوع کیوں بنایا ، شرمین کا کہنا تھا :

ہمارے مذہب اور ثقافت میں تشدد جائز نہیں ، نہ ہی غیرت کے نام پر قتل کی کوئی گنجائش ہے پھر ہم اس موضوع کو کیوں نہ چھڑیں۔ ’اے گرل ان دی ریور ‘کے بعد ملکی قوانین میں تبدیلی کی بات ہورہی ہے ۔ ہر جگہ خواتین سے جڑے سنگین جرائم کے بارے میں سوال اٹھ رہے ہیں ۔ ملک میں اب مضبوط قانون سازی ہو رہی ہے،یہ ہماری جیت ہے۔ان مسائل پر جب تک بات نہیں ہو تی تھی تبدیلی بھی ممکن نہیں تھی۔‘‘

’اپنی فلم کے لئے کیا انہیں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوئی؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھا ’’میرے لئے ایسی عورت کو تلاش کرنا بہت مشکل تھا جس کی زندگی غیرت کے نام پربری طرح متاثر ہوئی ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہماری خواتین خوف اور شرم کے باعث اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف نہ تو آواز اٹھاتی ہیں اور نہ ہی اپنے اوپر گزرے واقعات کو سامنے لانا چاہتی ہیں۔صبا میری فلم کی’ ہیروئن‘ ہی نہیں ،’ ہیرو‘ ہے۔ اسی کے حوصلے اور ہمت کے سبب میں اس فلم کو آپ سب کے سامنے لاسکی۔’کہانی ‘کا یہ پہلو بھی بہت اہم ہے ۔‘‘

شرمین عبید چنائے کا کہنا تھا ’’ پاکستان میں ہر سال سات سو سے ایک ہزار تک ایسے کیسزسامنے آتے ہیں جن سے براہ راست خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ تعداد ان کیسز کے مقابلے میں بہت کم ہے جو کہیں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ معاشرے میں عورت پر بہت دباؤ ہے اپنی پسند کے مطابق اسے کچھ نہیں کرنے دیا جاتا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’میری فلم کی اسکریننگ سب سے پہلے وزیر اعظم ہاؤس میں ہو ئی اور وزیراعظم صاحب نے بھی مجھے بہت سراہا۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں میں ہی غیرت نہیں۔ ہمارا مذہب عورت کو نکاح کرنے اور طلاق لینے کی اجازت دیتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اس مذہب کے ماننے والے غیرت کے نام پر قتل کو جائز قرار دے دیں۔‘‘

شرمین نے تبادلہ خیال کے دوران مزید کہا کہ ’’ہمارے معاشرے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے مجرموںکو معافی مل جاتی ہے جس سے جرائم بڑھتے ہیں۔میں نہیں چاہتی کہ کسی اور صبا کی جان جائے۔میں صبا سے مسلسل رابطے میں ہوں۔اس فلم کو بنانے کے بعد صبا کی نجی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔ حال ہی میں اس کے ہاں بیٹا ہوا ہے ۔ فی الحال وہ تنہائی چاہتی ہے ۔ اس نے درخواست کی ہے کہ اسے تنگ نہ کیا جائے۔‘‘

مستقبل کے منصوبوں سے متعلق ان کا کہنا تھا ’’میں چاہتی ہوں ایسے کام کروں جو تبدیلی لائیں۔میں چاہتی ہوں میری فلمیں سب دیکھیں۔جب میں چھوٹی تھی تو میری نانی مجھے کہانیاں سناتی تھیں کہ کس طرح وہ لوگ قربانیں دے کر اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کر آئے۔ہمیں ایسی کہانیاں سننی چاہئیں۔ ان تمام قربانیوں کے بارے میں سوچنا ہوگاکیونکہ ہم بھٹک گئے ہیں ہمیں اپنا آپ ٹھیک کرنا ہوگا۔ہمیں سوچنا چاہئے ہم اس ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں اور جو لوگ کچھ کر رہے ہیں ہمیں ان پر فخرہونا چاہیے۔ہمیں لوگوں کو اپنے عمل ، اپنے کردار سےمتاثر کرنا ہوگا ۔ اس ملک کو ویسا ہی ملک بنانا ہو گا جس کا خواب محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.