تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
3 جولائی 2011
وقت اشاعت: 9:41

کراچی:فنی خرابیوں کے باعث بجلی کا بحران برقرار رہنے کا امکان

جنگ نیوز - کراچی کے مختلف علاقوں میں فنی خرابیوں کے باعث ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے جاری بجلی کا بحران برقرار رہنے کا امکان ہے، کیوں کہ کے ای ایس سی انتظامیہ نے غیر پیداواری شعبے کے ملازمین کو رضا کارانہ علیحدگی کی آخری پیشکش کی ہے۔ جبکہ احتجاجی ملازمین نے پیشکش ٹھکرا کر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 31 دسمبر 2010 کو پہلی بار رضا کارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کرائی۔ 15 جنوری 2011 تک 350 ملازمین نے اسکیم سے فائدہ اٹھایا، دیگر 4150 ملازمین کو فارغ کر دیا گیا۔ تاہم سی بی اے اور مزدور تنظیموں کے طویل دھرنے، صدر مملکت اورگورنر سندھ کی مداخلت کے بعد 24 جنوری کو برطرف ملازمین بحال کردیئے گئے۔ 20 اپریل کو سی بی اے لیبر یونین اور انتظامیہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا جب بحال ہونے والے ملازمین کو کام سے روک کرسر پلس پول میں ڈال دیا گیا۔ ملازمین نے28 اپریل کو پہلے کراچی پریس کلب اور پھر گزری ہیڈ آفس پر دھرنا دیا جو تاحال جاری ہے۔ ملازمین اورانتظامیہ کے جھگڑے کے باعث شہر میں بجلی کا نظام شدید ہورہا ہے۔ کے ای ایس سی انتظامیہ کہنا ہے کہ رضا کارانہ علیحدگی اسکیم کی پیشکش کے تحت ملازمین کو 7 لاکھ 20 ہزار سے50 لاکھ تک رقم ادا کی جائیگی اور ملازمین چاہیں تو کنٹریکٹ کمپنی کے ذریعے روزگار بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ چئیرمین سی بی اے کہتے ہیں کہ وجہ تنازع ہی وی ایس ایس ہے اسے کیسے تسلیم کرلیں۔ ان کے مطابق جو ملازمین رضا کارانہ اسکیم لینا نہیں چاہتے انہیں سر پلس پول سے نکال کر ملازمت پر بحال کیا جائے،ورنہ احتجاج جاری رہیگا۔ کے ای ایس سی انتظامیہ کے مطابق 670 رضا کارانہ علیحدگی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ 3830 ملازمین کے گھروں پر وی ایس ایس اسکیم کے خط بھیج دیئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اس طرح بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوسکے گا جبکہ سی بی اے یونین اسے مزدور دشمن اقدام قراردیتی ہے لیکن بیچارے کراچی کے شہری اس سارے جھگڑے میں کسی جرم کے بغیربجلی کے بحران کی سزا بھگت رہے ہیں۔


یہ متن رومن اردو میں پڑھیںYe Matan/Text Roman Urdu Mein Parhein
متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.