12 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 20:59
نائن الیون کو شروع ہونے والی جنگ آج بھی جاری
جیو نیوز - کراچی ......حافظ محمد نعمان......11ستمبر 2001ء امریکی تاریخ کا وہ سیاہ باب جس کی دہشت سے آج بھی امریکی کانپ اٹھتے ہیں اوردنیا 14برس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اب بھی کسی نہ کسی صورت میں گھری نظر آرہی ہے۔
اس روزدہشت گردی کے اس واقعے میں 2996ہلاکتیں ہو ئیں جس میں 19ہائی جیکر ز بھی شامل تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 6000 تھی۔تاہم ردعمل میں امریکا کی جانب سے شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک20لاکھ کے لگ بھگ افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے اور یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔
آج سے ٹھیک14برس قبل جب پاکستان میں شام کے 6بج رہے تھے۔ امریکا میں چار مسافر بردار طیارے اغوا کرکے خودکش انداز میں امریکی سرمایہ دارانہ برتری کی علامت سمجھے جانی والی عمارت ورلڈ ٹریڈسینٹرکے دونوں ٹاورز سے ٹکرا دیئے گئے۔
میڈیا میں اس واقعے کا خوب چرچا رہا اور اس واقعے کو القاعدہ کی دہشت گردی سے جوڑا گیا۔ میڈیا کے مطابق یہ جہاز القاعدہ کے ارکان نے اغوا کرکے امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے امریکی سرمایہ دارانہ برتری کی علامتوں سے ٹکرائے، جس کا بعد میں ثبوت و اعتراف بھی ملا۔ اس دہشت گردی کے واقعے کو امریکیوں نے نائن الیون کا نام دیا۔
آیئے اس واقعے پر ایک مرتبہ پھر نظرڈالیں جس نے امریکہ سمیت پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔
گیارہ ستمبر 2001ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیارہ ستمبر 2001 ء بروز منگل۔وقت صبح 8بجکر55منٹ ۔ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا۔ابھی لوگ سمجھ ہی نہ پائے تھے کہ اٹھارہ منٹ بعد دوسرا بوئنگ 757 بھی دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا۔
دو مسافر بردار ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا تے ہی آسمانوں کو چھوتی یہ عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے زمیں بوس ہوگئیں۔
ابھی گھنٹہ بھر بھی نہ گزرا تھا کہ ایک اور اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 بھی امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گون پر گرا جس سے پینٹا گون جزوی طور پر تباہ ہو گیا۔
آدھے گھنٹے بعد ہی ایک اور جہاز سے متعلق خبر آئی کہ اسے اغوا کر کے وائٹ ہاوٴس کی طرف لے جایا جا رہا تھا، یہ بھی بوئنگ 757 تھا جسے پنسلوانیا کے مقام پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا۔
ان تمام حملوں میں جہازوں میں موجود تمام مسافر مارے گئے۔ اپنی موت سے قبل کئی مسافروں نے اپنے موبائلز کے ذریعے مختلف جگہوں پر فون کر کے رابطہ کیا۔
ان تمام اطلاعات کو بعد میں تحقیقات کیلئے منظم کیا گیا تا کہ اس حادثے میں ہونے والے اندرونی واقعات کو تفصیل سے جوڑا جا سکے۔
ان پے درپے واقعات کے بعد امریکی فضائیں جنگی طیاروں کی آواز سے گونج اٹھیں۔ امریکی بحری بیڑے حرکت میں آ گئے۔ تمام ایئر پورٹس بند کر دیئے گئے اور کسی عام طیارے کو بھی پرواز کی اجازت نہیں ملی۔ تمام سرکاری عمارتوں کو خالی کراکر فوج تعینات کر دی گئی۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی امریکی سیکورٹی اداروں نے امریکی صدر جارج بش اور نائب صدرڈک چینی کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔آناً فاناً وائٹ ہائوس کو خالی کرالیا گیا۔امریکا کیلئے تمام بین الاقوامی پروازیں کینیڈاکیلئے موڑدی گئیں۔
کانگریس کی عمارت خالی کرالی گئی ، تمام ضلعی حکومتوں کے دفاتر بھی بند کردیئے گئے۔
ورجینیا ریلوے ایکسپریس سروس معطل اور یونین اسٹیشن سے تمام ٹرینوں کی آمد و رفت بند ہوگئی۔ بسوں کے ساتھ پینٹا گون میٹرو ریل اسٹیشن بھی بند کر دیا گیا۔ ریاست میری لینڈ کے تمام اسکولوں میں چھٹی کر دی گئی اور جارج ٹاوٴن یونیورسٹی میں کلاسز معطل کر دی گئیں۔
اس حملے میں کئی افراد اپنی جانوں سے گئے۔ ان حملوں سے امریکا سمیت یورپ بھرکو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔حملوں کی خبر نے عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی قیمتوں کو کئی گنا بڑھا دیا۔
دنیا کا سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج نیویارک بند کر دیا گیا۔ لندن اسٹاک ایکسچینج کو خالی کرا لیا گیا۔ جرمنی ، پیرس ، ٹوکیو اور ماسکو وغیرہ کی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتیں گر گئیں۔ تباہی کے نتیجے میں انشورنس کمپنیوں نے نقصان کا تخمینہ 15 ارب ڈالر تک لگایا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق حملے مسلم دنیا میں امریکا کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور اسلام مخالف پالیسیوں کے ردعمل میں القاعدہ نے کئے جس کا خیال تھا کہ ان حملوں سے امریکا کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
مگر امریکا نے نئی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے پوری دنیا سے اپنے لیے ہمدردی سمیٹ لی اوربعدکے حالات میں امریکا سمیت یورپ بھر میں مسلم امہ پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا۔
ایک خیال کے مطابق یہ حملہ اور اس کی منصوبہ بندی تو القاعدہ ارکان نے کی مگر جتنا زیادہ فائدہ امریکیوں کو ہوا اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ حملہ خود امریکیوں کی خواہش و منصوبہ بندی پر ہی کیا گیا۔
تحریر: حافظ محمد نعمان
2012ء سے جنگ گروپ سے منسلک ہیں اورآج کل بطور سب ایڈیٹر آن لائن ایڈیشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔