تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
14 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 16:19

ملا عمر کی موت طبعی تھی :بیٹے کا اعتراف

جیو نیوز - کابل……افغان طالبان کے بانی و سابق سربراہ ملا محمد عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب نے تسلیم کیا ہے کہ ملا عمر کی موت طبعی تھی انہیں قتل نہیں کیاگیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل باغی طالبان رہنماوٴں کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ ملا عمر کو قتل کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملا یعقوب نے پیر کو منظر عام پر آنے والے اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہا کہ دشمن سازش کر کے ان کے انتقال کو قتل کا رنگ دے کر مجاہدین میں انتشار پھیلانا چاہتے تھے۔

ملا عمر کے سب سے بڑے صاحبزادے ملا محمد یعقوب اپنے آڈیو بیان میں سختی سے کسی بھی گروپ یا دشمن کی جانب سے ملا عمر کو قتل کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے تمام شکوک و شبہات ختم ہو جائیں کہ ملا عمر کی موت قدرتی تھی اور اس میں کسی کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس سال جولائی میں ملا عمر کے جاں بحق ہونے اور اس سے متعلق متنازع خبریں منظر عام پر آنے کے بعد افغان طالبان نے ملا عمر کے دو سال قبل انتقال کر جانے کا اعلان کیا، ساتھ ہی ہنگامی طور پر اجلاس بلا کر ملا عمر کے نائب ملا اختر منصور کو ان کی جگہ افغان طالبان کا امیر مقرر کردیا گیا۔

یہ اطلاعات بھی اس وقت سامنے آئی تھیں کہ ملا اختر منصور کی امارت پر کئی طالبان کمانڈرز اور ملا عمر کے خاندان کے افراد نے ناراضی کا اظہار کیا تھا اور اس بات پر بھی خفگی ظاہر کی گئی اور سوال اٹھایا گیا کہ ملا عمرکی موت کو دو سال تک کیوں پردۂ راز میں رکھا گیا جس پر طالبان کی جانب سے بیان دیا گیا کہ 2014ء تک افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کی امید پر ملا عمر کی وفات کو مخفی رکھا گیا تاکہ ملاعمر کے انتقال کااعلان اس انخلاء پر اثر انداز نہ ہوسکے۔

ملا یعقوب کا کہنا ہے کہ ملا عمر کافی عرصے سے بیمار تھے اور ان کی حالت مستقل خراب ہو رہی تھی، ان کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ملا عمر ہیپا ٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا تھے۔

انہوں نے اپنے آڈیو ٹیپ پیغام میں اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کے والد نے انہیں اپنے جانشین کے طور پر مقرر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے کسی کا بھی بطور جانشین نام نہیں لیا تھا۔
شفیق احمد صدیقی
1994ء سے جنگ گروپ سے منسلک ہیں اورآج کل بطور سب ایڈیٹر آن لائن ایڈیشن دیکھ رہے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.