22 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 20:20
عازمین لبیک اللہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ منیٰ پہنچ گئے
جیو نیوز - منیٰ ........مناسک حج کے آغاز کے ساتھ منی ٰمیں خیموں کا سب سے بڑا شہر آباد ہوگیا ہے، عازمین آج رات منیٰ میں ہی قیام کریں گے، کل حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کے لیے میدان عرفات جائیں گے۔
تاحد نظر یہ ہجوم اپنے خالق کی وحدانیت کا اقرار کرتا آج سے دین اسلام کا اہم فریضہ حج ادا کررہا ہے۔حج دین اسلام کی وہ عبادت ہے جس میں ایک بندہ مالی و جسمانی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ایک مقدس سفر پر روانہ ہوتا ہے اور ایسا طاہر لوٹتا ہے جیسے وہ اس دنیا میں ابھی آیا ہو۔
8ذی الحجہ کو دنیا بھر سے آئے مسلمانوں نے مناسکِ حج کا آغاز کردیا ہے،حرم خدا کے قریب سے حج کی نیت سے مخصوص لباس احرام باندھ کر تلبیہ کہتے ہوئے منیٰ پہنچ چکے ہیں جہاں خیموں کا شہر آباد ہے۔
ایک ہی لباس پہننا اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کے دربار میں ارب پتی ہوں یا غربا کسی میں کوئی درجہ بندی نہیں، ہاں ہے تو وہ صرف تقوے کی بنیاد پر۔منیٰ میں فجر کی ادائیگی کے بعد 9 ذی الحج کا سورج طلوع ہونے کے بعد عازمین عرفات روانہ ہوں گے،وہاں رکن اعظم وقوف عرفہ ہوگا،سورج غروب ہونے تک اللہ تعالی کا ذکر اور دعاو استغفار میں مصروف رہیں گے۔
سورج غروب ہو نے کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں گے اور مغرب اور عشاکی نمازیں مزدلفہ پہنچ کر ادا کریں گے اور پھر نماز فجر تک وہیں قیام کریں گے۔پھربڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے مزدلفہ سے منیٰ جائیں گے۔اس عمل کو رمی کہتے ہیں ،رمی کے بعد قربانی کی جائے گی، جس کے بعد مرد اپنا سر منڈائیں گے اور خواتین اپنے تھوڑے بال کٹوائیں گی۔
پھر حجاج طواف افاضہ کے لیے مکہ چلے جائیں گے۔مکہ سے پھر منی واپس آکر وہاں 11، 12 ذی الحجہ کی راتیں گزاریں گے اورہر دن زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماری جائیں گی۔
12 تاریخ کو تینوں شیاطین کوکنکریاں مار نے کے بعد جلد چاہیں تو غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے نکلنا ہوگا اور تاخیر چاہیں تو 13تاریخ کی رات منیٰ میں بسر کی جائے گی۔ حجاج اپنے اپنے ملک روانہ ہونے سے قبل بیت اللہ کا طواف یعنی طواف وداع کریں گے۔
سعودی حکومت نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی ہدایت پر کرین سانحے میں زخمی اور آئی سی یو میں داخل مریضوں کو خصوصی اہتمام کے ساتھ مناسک حج ادا کرانے کی ہدایت کی ہے۔
وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل مکہ مکرمہ نے بتایا ہے کہ ایسے 56 زخمیوں کو ارکان حج ادا کرانے کیلئے ماہرین طب، نرس اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے ساتھ میدان عرفات لایا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال حجاج کرام کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔