25 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 16:43
تارکین وطن کے دکھ درد کو محسوس کیا جائے، پوپ فرانسس
جیو نیوز - نیویارک.......پوپ فرانسس نےامریکی اراکین کانگریس پرزوردیاہےکہ امیگرینٹس کےگھرانےسےتعلق رکھنےوالوں کواپنےجیسےافرادکادرد محسوس کرناچاہیے۔انہوں نےکہاکہ بےگناہوں کےخون سےرنگاپیسہ کمانے کے لیےہتھیارنہ بیچےجائیں۔
پوپ فرانسس دنیا کی مختصر ترین ریاستوں میں سے ایک کے سربراہ ہیں لیکن سوا ارب کیتھولک مسیحیوں کی روحانی پیشوا کی حیثیت سے دنیا کی واحد سپر پاور کے ایوان میں انہوں نے کئی ارکان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ضرور ہے۔
امریکی سینیٹ اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے تاریخی خطاب میں دھیمے لہجے میں ہی سہی،پوپ نے وہ نکات اٹھائےجو امریکا میں تارکین وطن کی مخالفت کرنے اور انہیں واپسی کا رستہ دکھانے کے عزائم رکھنے والےری پبلیکنز کو کڑوے ضرور لگے ہوں گے۔
مسیحیوں کے روحانی پیشوا نے اپنے خطاب میں کہا کہ باہر سے آنے والے اگر یہاں اپنی زندگیاں سنوارنے کے خواہشمند ہیں تو ہمیں ماضی کی غلطیوں اور گناہوں کو دہرانا نہیں چاہیے،ہم جس حد تک جاسکتے ہیں اس حد تک ہمیں اپنی اقدار کی پاسداری کرنا ہوگی،جیسا کہ ہمیںاپنی نئی آنے والی نسلوں کو بتانا ہے کہ اپنے ذہنوں سے دشمنی کی سوچ کو دور کرکے غیروں کو اپنائیںاور مجھے یقین ہے کہ مسلسل کوششوں سے ہم اس مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
پوپ نے خود کو بھی اٹلی سے ارجنٹینا منتقل ہونےو الے تارک وطن بتایا، انہوں نےامریکی ارکان کانگریس پرزوردیا کہ تارکین وطن کے کےگھرانے سے تعلق رکھنےوالوں کواپنےجیسےافرادکادرد محسوس کرناچاہیے۔
پوپ فرانسس نے زور دے کر کہا کہ تعداد کو دیکھ کر ان سے منہ نہیں موڑنا چاہیے بلکہ ان کے دکھ اور درد کو محسوس کرنا چاہیے، حالیہ دنوں میں جاری اس رحجان کو دور کرنا ہوگا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے،اس سنہرے اصول کو یاد رکھیں کہ دوسرے کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے آپ کے ساتھ کریں۔
پوپ نےسوال اٹھایا کہ افراد اور معاشرے کے ساتھ بھیانک سلوک کرنے والوں کو اسلحہ کیوں بیچا جاتاہے۔پوپ نےکہا کہ افسوسناک بات ہےکہ یہ پیسے کے لیے کیا جاتا ہے۔ایسا پیسہ جوعموماً بے گناہ افراد کے خون سے رنگین ہوتاہے۔ پوپ اب نیویارک میں ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سےخطاب کریں گے۔تجزیہ کاروں کےنزدیک ان کےدورےسے امریکی پالیسیاں تو نہیں بدلیں گی مگرکچھ لوگوں کےذہن ضرور تبدیل ہوجائیں گے۔