19 جنوری 2015
وقت اشاعت: 15:9
اسحا ق ڈارنے پٹرول کی قلت پرحکومت کی ناکامی کا اعتراف کرلیا
جیو نیوز - اسلام آبا د.........وزیر خزانہ اسحا ق ڈار نے کہا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں اور پٹرول کی قلت کے معاملے میں حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں۔ انہوں نےیقین دلایا کہ پٹرول کی قلت کے جو بھی ذمہ دار ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جائے گی، وزارت خزانہ پٹرول کی قلت میں کہیں ملوث نہیں۔ اسلام آبا د میں نیوز کانفرنس کے دوران میڈیا نے وزیر خزانہ کو آڑھے ہاتھوں لیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وضاحت کرنا پڑی کہ پی ایس او کی کسی رقم کا ، وزارت خزانہ سے کوئی تعلق نہیں، وزارت پانی اور بجلی کے لیے سبسڈی کی رقم، کا بندوبست کیا جاتا ہے اور سبسڈی کے لیے جو رقم طے ہے سب کی سب جاری کردی گئی ہے،آج بھی 10 ارب روپے بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ایس او کا کوئی بزنس ہمارے ساتھ نہیں ہوتا،نہ ہی اس کی رپورٹ ہمیں ملتی ہے اور اس کا کوئی پیسہ حکومت کی طرف نہیں، ہم نے کوئی کلیم نہیں روکا، جتنے بھی کلیم ہیں وہ پورے کے پورے دیتے جاتے ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدانتظامی کا اعتراف ضرور کیا او ر کہا کہ جو بھی اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہناتھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی ہے، مس مینجمنٹ ہوئی ہے، جن تیل کی کمپنیوں نے اسٹاک برقرار رکھنا تھاانہوں نے نہیں رکھا،اب ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو 10 جنوری بتایا گیا تھا کہ ملک میں 18دن کا ایندھن موجود ہے اور اس یہ رپورٹ 6جنوری کے اسٹاک کے مطابق تھی، یوں ملک میں 24جنوری سے پہلے پٹرول کی قلت نہیں ہونی چاہیےتھی، اب تحقیق کی جائے گی کہ پٹرول کی قلت کیوں ہوئی۔ سیکریٹری پٹرولیم اپنی وزارت کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ہیں اس لیے ان کی اولین ذمہ داری بنتی تھی کہ صورت حال کو مینج کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران تیکھے سوالات پر اسحاق ڈار نے کبھی پہلو بدلا، کبھی بغلیں جھانکیں، کبھی گھڑی دیکھی۔