تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
1 جون 2011
وقت اشاعت: 11:34

سر سید احمد خان کی آج ایک سو تیرہویں برسی منائی جا رہی ہے

کراچی : برصغیر کے مسلمانوں کی نئی نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی ایک سو تیرویں برسی منائی جا رہی ہے۔



برصغیر کے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے والے سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کودہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کا سہرا انکی والدہ عزیز النسابیگم کے سر جاتا ہے، کم عمری ہی میں سر سید کو اپنے والد سید محمد تقی کی وفات کا غم سہنا پڑا۔ گھر کے حالات خراب ہونے کے سبب 1838 میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں معمولی کلرک مقرر ہوئے فروری 1939 میں آگرہ ڈویژن کے کمشنر کے چیف سیکرٹری اور پھر منصفی کا امتحان دے کر 1841 میں مین پوری کے مقام پر جج مقرر ہوئے، 1842 میں بہادرشاہ ظفر نے سر سید صاحب کو جوالدولہ عارف جنگ کا خطاب دیا۔



اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے سبب مسلمانوں کی زبوں حالی پر سر سید کو بڑا دکھ پہنچا انھوں نے جنگ آزادی کے اسباب پر ایک رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھا اور مسلمانوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے24 مئی 1875 کو علی گڑھ کے مقام پر محمڈن اینگلو اورینٹل اسکول قائم کیا۔ جسے 1878 میں کالج اور 1920 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، محمڈن کالج نے ایسے رہنما پیدا کیے جو بعد میں ہندوستان کی سیاست کے افق پر چھا گئے۔



اس تعلیمی ادارے نے بر صغیر کے مسلمانوں کی نئی نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔آج بھی اسکے گوشے گوشے میں علم کے نغموں کی صدا سنائی دیتی ہے، سر سید بے شمار کتابوں کے مصنف تھے، علم کی شمع جلانے والے سر سید احمد خان 27 مارچ 1898 کو دہلی میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ علی گڑھ کالج کا قیام دراصل سر سید احمد خان کا مسلمانوں پر وہ عظیم احسان ہے جسے قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.