26 اگست 2013
وقت اشاعت: 21:46
فٹبال کی ترقی گراس روٹ لیول سے ہی ممکن ہے، ہارون رشید
جیو نیوز - کراچی…شکیل یامین کانگا …دنیا کے مقبول ترین فٹبال کھیل کوپاکستان میں ترقی دینا ہے تو ہمیں گراس روٹ لیول سے ہی شروعات کرنا ہوں گی۔ اسٹیٹ بینک نے انٹراسکول فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کرکے ایک قابل تقلید قدم اٹھایا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں تو ہمارے کھلاڑی بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم کو بلند کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک ہر سال باقاعدگی سے انٹراسکول فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کرکے فٹبال کھیل کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہا ر محمد ہارون رشید، ایم ڈی ، بینک سروسز کارپوریشن و رکن گورننگ باڈی ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایس بی پی انٹراسکول آزادی کپ فٹبال چیمپئن شپ 2013کی افتتاح تقریب سے معین خان کرکٹ اکیڈمی پر بحیثیت مہمان خصوصی نے اپنے خطاب میں کیا۔اس موقع پر اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ افسران، آرگنائزنگ سیکرٹری ظہیر الحسن، منیجر اسپورٹس، چیف کوآرڈنیٹر مراد حسین، ریاض احمد و دیگر مہمان بھی موجود تھے۔ افتتاحی تقریب میں اسپیشل بچوں نے مختلف کھیلوں کے مقابلے، ٹیبلوزاور ملی نغمے پیش کئے ۔ اس دوران آتش بازی کا بھی دلکش مظاہرہ کیا گیا جس سے آسمان براق نور بن گیا۔ اسٹیڈیم میں موجود شائقین بھی آتش بازی کے مظاہرے سے بے حد محظوظ ہوئے۔ بعدازاں دو نمائشی مقابلوں کا اہتمام کیا گیا جس میں لائسیم اسکول نے نکسر کالج اور فاوٴنڈیشن پبلک اسکول نے جنریشن اسکول کو مقررہ وقت میں مقابلہ 0-0سے برابر ہونے کے بعد ٹائی بریکر پر شکست دے کر فاتح ٹرافی مہمان خصوصی محمد ہارون رشید سے وصول کی۔ ٹورنامنٹ کے جملہ مقابلے آغا خان جیم خانہ گراوٴنڈ گارڈن ویسٹ پر کھیلے جائیں گے جس میں اے لیول کی 8اوراو لیول کی 16ٹیمیں ناک آوٴٹ کی بنیاد پر شرکت کریں گی۔ فائنل 31اگست کو کھیلا جائے گا۔دریں اثناء ملک میں بڑھتی دہشت گردی کی روک تھام اور امن کو فروغ دینے کے لئے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سپورٹ کرنے کے لئے پیس رائیڈرز سائیکلنگ کلب آف پاکستان کے زیر اہتمام ٹور آف پیس سائیکل رائیڈ کا اتوار کو مزار قائد کے وی آئی پی گیٹ سے آغاز ہوا۔ انٹر نیشنل ایڈونچر سائیکلسٹ اور پیس رائیڈرز سائیکلنگ کلب کے بانی و چیف آرگنائزر انور العزیز رائیڈ کو لیڈ کر رہے تھے ۔ رائیڈ میں20سائیکلسٹوں نے شرکت کی جن میں عمیر انعام، عمار سلیم، محمد وقاص نعیم، محمد فصیح الرحمٰن، کاوش آفتاب، مصطفی الیاس، سعود راجپوت، شہریار مسعود، داؤد، ارشدشاہ، ریان ظاہر، انیلہ ویلڈن، سید سلمان شاہ، یحییٰ علی مغل، عباد اللہ وسیم، یحییٰ اعجاز، زوہیب فاروق اعجاز، محمد علی، عریشہ وسیم شامل تھیں۔ رائیڈ میں کریٹیکل میس، سائیکلو پاتھ، چین ری ایکشن ، ویلو کلب پاکستان، ماری پور سائیکلنگ کلب، کراچی ایڈونچر سائیکلنگ کلب، ساجدجی ٹی گروپ بھی شامل تھے۔ رائیڈ مزار قائد سے ہوتی ہوئی اللہ والی چورنگی، نرسری، شارع فیصل، میٹرو پول ہوٹل، تین تلوار، دو تلوار، پارک ٹاور، بوٹ بیسن، شون چورنگی واپس میٹروپول ہوٹل، اسٹیٹ لائف بلڈنگ سے کراچی پریس کلب پہنچی جہاں اس کا اختتام ہوا۔ اختتام پر بخاری گروپ کے سردار زبیر حسین، کاشف افروز، ذیشان افسر، ملیتھا ڈی سوزا اور دیگر نے پیس رائیڈرز کا استقبال کیا۔