5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر،حکومت نے سرکاری میڈیا پر بھی اپنا کنٹرول کھو دیا
جنگ نیوز -
قاہرہ…احتجاجوں اور جلوسوں نے مصری حکومت کو ناکوں چنے چبوادیے۔اور حسنی مبارک کو لگنے والا تازہ ترین جھٹکا یہ ہے کہ انہوں نے سرکاری میڈیا پر کنٹرول بھی کھودیا ہے۔مصر کے صدر حسنی مبارک کے تیس سالہ دور حکمرانی میں اسٹیٹ میڈیا قدم بہ قدم ان کے ساتھ رہا۔لیکن اب لگتا ہے کہ میڈیا پر مبارک کا کنٹرول ان کے ہاتھ سے پھسلتا جارہا ہے۔ مصر کے سب سے بڑے اخبار نے حسنی مبارک کے خلاف ہونے والی بغاوت کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔مڈیل ایسٹ میں سب سے مشہوراور دوسرے قدیم ترین اخبار الاحرام نے حکومت مخالفین کا پورا ساتھ دینے کا اشارہ دے دیا ہے۔الاحرام کے ایڈیٹر انچیف اسامہ ساریہ نے فرنٹ پیج پر لیڈنگ اسٹوری میں ناقابل تنسیخ آئینی اور قانونی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ساریہ کی ساکھ ، مصری صدر کے لیے صفائیاں پیش کرنے والے کی رہی ہے۔لیکن گذشتہ سال ساریہ اس وقت اپوزیشن کی تضحیک کا نشانہ بنے جب الاحرام میں ایک تصویر شائع ہوئی۔جس میں حسنی مبارک کو امریکی صدر براک اباما اور دیگر ممالک کے صدور میں سب سے آگے چلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔اور ساویہ نے اس تصویر کو اظہار رائے کی آزادی قرار دیا تھا۔