17 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 5:32
برصغیر پاک و ہند میں بلدیاتی اداروں کی تاریخ
جیو نیوز - کراچی.....سلیم اللہ صدیقی.....پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی تیاریاں جاری ہیں۔31اکتوبر کو پہلے مرحلے میں پنجاب کے12 اور سندھ کے8اضلاع میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد یہ انتخابات سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل میں لائے جارہے ہیں۔پہلے مرحلے میں پنجاب بھر سے7سو 68 امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوگئے ۔ان میں 16 چیئرمین اور وائس چیئرمین شامل ہیں جبکہ مزید 40ہزار 4سو سے زائد امیدوار مقابلے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
تاریخی دریچوں سے
تاریخ کا مطالعہ بتایا ہے کہ برصغیر پاک وہند میں بلدیاتی اداروں کی تاریخ کئی صدی پرانی ہے۔1688ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت مدراس میں پہلی مرتبہ سٹیزنز کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔سرجو شوا چائلڈجو مدراس کا گورنر تھا،اس کی یہ کوشش اس نظام کا نقطہ آغاز کہہ سکتے ہیں۔
سن 1726ء کے ایکٹ میونسپل چارٹر کی روسے بمبئی اورکلکتہ میں بھی کارپوریشنزقائم کی گئیں۔اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ برصغیرمیں میونسپل حکومت کی ابتدا مدراس، کلکتہ اوربمبئی کی پر یذیڈنسی سے ہوئی۔
اس حوالے سے 1846 میں کراچی کیلئے قانون سازی کی گئی ۔اس مقصد کیلئے ایک کنزروینسی بورڈ کا قیام عمل میں آیاجبکہ راولپنڈی اور لاہور میں1867ء میں میونسپل ایکٹ پاس کیا گیاجس سے میونسپل کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں آئی۔
تاہم 1880میں جب وائسرے لارڈ رپن نیگورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا تو اس نے اصل میں مقامی حکومت کی ترقی کے سلسلے میں اہم اقدامات کئے۔ 1882 میں اس نے مقامی حکومتوں کا نظام قائم کیا تھا۔
1884ء میں پنجاب میونسپل ایکٹ نافذ ہوا اور اس سے قبل 1882ء میں دیہی علاقوں کیلئے ضلعی بورڈ ایکٹ نافذ ہوچکا تھا۔
1891ء میں ایک نیا ایکٹ نافذ کیا گیاجس میں میونسپل کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ علاقہ کمیٹیاں بنائی گئیں۔
1911 میں اس ایکٹ میں ایک اور ترمیم کی گئی۔اور1912 میں پنچائیت ایکٹ کا نافذ ہوگیا۔بنگال کے علاوہ پنجاب ایسا صوبہ تھا جس نے مقامی اداروں کیلئے سب سے زیادہ قانون سازی کی گئی ۔منٹو چیمسفور اصلاحات اور1935کے ایکٹ کے ذریعے قوانین مزید بہتر اور مضبوط بنائے گئے۔
1941 میں قائم ہونے والی لاہور میونسپل کارپوریشن پاکستان کی سب سے قدیم مقامی حکومت ہے۔اس کے ذریعے قیام پاکستان سے پہلے مقامی حکومتوں کے بیشتر اراکین منتخب ہوتے تھے۔نامزد ہونے والے اراکین کی تعداد کم تھی لیکن یہ ایک بالغ رائے دہی کی بنیاد پرنہیں ہوتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعدکا بلدیاتی نظام
قیام پاکستان کے بعد شہروں میں میونسپل کمیٹیاں اور کنٹونمنٹ بورڈ بنائے گئے جبکہ دیہات کیلئے ضلعی بورڈ بنائے گئے اس کے علاوہ دیہات میں پنجائیت سسٹم بھی لاگو تھا۔1952،53 میں ویلج پروگرام شروع کیا گیا۔اس کے نتیجے میں مقامی حکومتوں سے متعلقہ قوانین میں ترامیم کی گئیں۔
جنرل ایوب خان نے1959 میں بنیادی جمہوریتوں اور1960 میں میونسپل ایڈمسٹریشن آرڈرنینس جاری کیا گیا۔اس نظام کے تحت 80ہزار بلدیاتی کونسلروں کو عائلی قوانین کے تحت مصالحتی اختیارات دئیے گئے۔دیہات میں یونین کونسلیں اور شہروں میں وارڈ سسٹم کی بنیاد پر یونین کمیٹیاں بنائی گئیں۔
اس طرح قصبوں میں ٹاؤن کمیٹیاں ،تحصیل کی سطح پر تحصیل کی کونسلیں اور شہروں میں میونسپل کمیٹیاں اور کارپوریشن بنائی گئیں۔ان اداروں کے اراکین 80ہزاربی ڈی ممبرتھے۔
1970 اور71 میں سقوط ڈھاکا کے بعد ون یونٹ ختم کردیا گیا۔پیپلزپارٹی کی نئی حکومت نے 1972 میں بلدیاتی حکومتوں کیلئے قانون سازی کی اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ نافذ ہوا۔1975 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ منظور کیا گیالیکن ان برسوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد نہیں کروائے گئے۔
1977میں ملک میں آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذکردیا جس کے بعد1979میں لوکل گورنمنٹ آرڈرنینس نافذ کیا گیا۔ اس نظام کے تحت تین بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔
1998ء میں اس نظام میں مزید ترمیم کرکے اس میں پنچائیت سسٹم شامل کردیا گیاچونکہ پنچائیت منتخب باڈی نہیں تھی لہذااسے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ہائی کورٹ نے اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے پرانا سسٹم بحال کردیا۔
وزیراعظم میاں نواز شریف کا دوسرا دور حکومت تھا جب مئی 1998 میں پنجاب حکومت نے اربن کونسلوں کے انتخابات کروائے جبکہ یونین کونسلیں انتظامیہ کے ماتحت رہیں۔اسی سال بلوچستان میں تمام لوکل کونسلوں کے انتخابات ہوئے تاہم سندھ اور سرحد میں سیاسی وجوہ کی بنا پر انتخابات نہیں کروائے گئے۔
اکتوبر1999 کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا۔ اس دور میں ایک نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا جس پر14اگست2002 سے عمل درآمد شروع ہوا۔اس نظام کے تحت دو الیکشن 2002 اور2005میں منعقد ہوئے۔
2010 میں ان حکومتوں نے میعاد پوری کرلی تھی تاہم گزشتہ 5برسوں میں بدقسمتی سے برسراقتدار منتخب حکومتیں اس حوالے سے قانون سازی پر الجھی رہیں اور بلدیاتی انتخابات نہ ہوسکے۔