4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 7:1
ممتاز گلوکار مسعود رانا کی سولہویں برسی آج منائی جارہی ہے
اے آر وائی - پاکستان کے ہر دلعزیز پلے بیک سنگر مسعود رانا کی سولہویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ مسعود رانا کو قدرت نے کم وبیش ویسی ہی آواز عطا کی ، جو برصغیر کے عظیم گلوکار محمد رفیع کے حصے میں آئی، اگرچہ انہیں محمد رفیع جیسا کینوس اور موسیقار میسر نہ آ سکے مسعود رانا کا خاندان مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر سے سندھ کے ضلع میرپور خاص منتقل ہوا۔
ان کے فنی کیریئر کا آغاز حیدر آباد ریڈیو سے ہوا، انہوں نے کراچی میں بننے والی فلم بنجارن سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا مسعود رانا انیس سو چونسٹھ میں لاہور منتقل ہو گئے جہاں ان کے فن میں نکھار آیا اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقعے بھی میسر آئے، یوں وہ دیکھتے ہی دیکھتے اردو اور پنجابی فلموں کے مقبول پلے بیک سنگر بن گئے ۔
مسعود رانا دلکش خدوخال کے مالک انسان تھے، انہوں نے دو فیچر فلموں دو مٹیاراں اور شاہی فقیر میں ہیرو کے کردار بھی ادا کئے دلوں کو تسخیرکر لینے والی آواز کے مالک مسعود رانا کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ ایک میوزک شو کے لئے ٹرین پر لاہور سے صادق آباد جا رہے تھے مسعود رانا نے عمر بھر اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا،لوگ ان کے گائے ہوئے گیتوں کو سن کر ان کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔