24 نومبر 2011
وقت اشاعت: 7:4
لاہور میں وحید ’’مراد ایوارڈز ‘‘کا انعقاد
اے آر وائی - آل پاکستان وحیدی کلب کی جانب سےلاہور میں وحید مراد ایوارڈز کا انعقادکیا گیا ۔۔ جس میں سینئر اداکاروں نے شرکت کی اور فنکاروں نے پرفارم کیا ۔ چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی برسی کے موقع پر پنجاب آڈیٹورم میں ایوارڈز کا انعقاد کیاگیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رانامشہود تھے ۔ تقریب میں گزشتہ 3 برسوں کی کارکردگی کی بناء پر فنکاروں میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے جبکہ سینئر اداکاروں کو لائیو اچیومنٹ ایوارڈ دیے گئے ۔
لالی وڈ کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو جہانِ فانی سے گزرے28 برس ہو گئے ہیں ، وحید مراد کو ہر نسل کے افراد نے شرف قبولیت بخشا۔ وحید مراد برصغیر کے واحد اداکار ہیں جن کی مقبولیت میں وفات کے طویل عرصہ بعد بھی رتی برابر فرق نہیں آیا۔ چاہنے والوں کی چاہتوں سے قطع نظر ان کے بعد آنے والے اداکار بھی گانوں کی پکچرائزیشن اور لو سینز میں ان کی نقل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
وحید مراد پاکستان کے واحد اداکار ہیں جن کی فلموں کے کلپس کو پونا فلم اکیڈمی کے کورسز میں بطور سبق شامل کیا گیا ہے،دلیپ کمار کے بعد وحید مراد کے ہیر سٹائل کو جواں نسل نے اپنایا۔ وہ کردار کو کچھ اس طرح سے خود پر طاری کر لیتے کہ حقیقت کا گمان ہونے لگتا۔ خواتین میں وحید مراد کی پسندیدگی کا گراف کسی بھی ہمعصر ہیرو سے کہیں زیادہ تھا۔
انہوں نے اپنی پرفارمینس سے کئی شاہکار تخلیق کئے جن میں"ہیرا اور پتھر"، "ارمان"، "سالگرہ"، "انجمن"، "دیور بھابھی''، "ثریا بھوپالی"، "ناگ منی"، ''مستانہ ماہی''، "شبانہ" اور "بہارو پھول برساوی" نمایاں ہیں۔ وحید مراد پاکستان فلم انڈسٹری کی شان تھے ، انہوں نے فلم سکرین پر اپنی صلاحیتوں سے جو نئے انداز متعارف کروائے وہ مدتوں ان کی توقیر کا باعث بنتے رہیں گے‘ کسی ہیرو کو اتنی مقبولیت نصیب نہیں ہوئی جتنی وحید مراد نے سمیٹی‘ وہ نوجوانوں کے آئیڈیل تھے اور ان کا انداز اورہیئراسٹائل نقل کیا گیا۔
انہوں نے 1962ء میں فلم ’اولاد‘ سے اپنے کیرےئر کا آغازکیا وحید مراد کی ہیروشپ ان کی فلم ’ہیرا اورپتھر‘ سے شروع ہوئی۔ زیبا کے ساتھ فلم ’ارمان‘ نے وحید مراد کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ دلیپ کمارکے بعد وحید مراد وہ دوسرے ہیرو تھے جن کا ہیئراسٹائل اورلباس ضرب المثل بنا۔ رومانوی سین اورگیت پکچرائز کروانے کا جوانداز وحید مراد نے اپنایا وہ آج بھی انہیں منفرد رکھے ہوئے ہے۔ ندیم اورمحمد علی جیسے قدآور آرٹسٹوں کےسامنے وحید مراد کا طوطی 1979ء تک بولتا رہا، پھر اچانک وحید مراد پر قسمت کی دیوی نامہرباں ہوگئی۔ وحید مراد شہرت کے آسمان سے ایسے پھسلے کہ پھر سنبھل نہ پائے‘وحید مراد بھولی ہوئی کوئی داستاں ہیں نہ گزرا ہوا خیال‘ وحید مراد اپنے پرستاروں پر آج بھی راج کرتے ہیں۔