27 اپریل 2014
وقت اشاعت: 0:59
آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے: اقتصادی مشاورتی کونسل
جیو نیوز - اسلام آباد…وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت اقتصادی مشاورتی کونسل نے مان لیاکہ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں کا یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے پر غور کیا گیا۔کونسل نے غربت جانچنے کا پیمانے بھی تبدیل کردیا۔ نئے معیار کے مطابق پاکستان کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔اسلام آباد میں اقتصادی مشاورتی کونسل کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کے دوران یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے پر غور ہوا جس پر حتمی فیصلہ بجٹ سے قبل ہو گا۔ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب پاکستان میں 2ڈالر یا 200روپے یومیہ سے کم آدنی رکھنے والا فرد غریب تصور ہوگا۔ غربت کے نئے پیمانے سے دیکھا جائے تو پاکستان کی نصف آبادی غریب ہے۔ اس سے قبل سوا ڈالر کی آمدن رکھنے والا فرد غریب تصور ہوتا تھا۔کونسل نے اگلے مالی سال میں زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی 35فیصد سے کم کرکے 25فیصد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔