تازہ ترین سرخیاں
 کاروبار 
13 جون 2014
وقت اشاعت: 19:59

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے 686ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا

جیو نیوز - کراچی.........صوبہ سندھ کا مالی سال 2014-15کیلئے بجٹ پیش کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر کی ۔وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کےلیےسندھ بجٹ کاحجم686ارب روپےہے،سندھ سمیت پورا ملک مسائل کا شکار ہے، دہشت گردی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، وفاق نےرواں مالی سال کےدوران 2مرتبہ ٹیکس ہدف کم کیا،صوبوں کو وفاق کی بدانتظامی کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں 70فیصد گیس کی پیداوار ہوتی ہے،سندھ کووفاق سےرواں سال ہدف سے 61ارب روپےکم ملےہیں،سندھ کوگیس انفرااسٹرکچرکی مدمیں وفاق سے جو رائلٹی ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی، گیس کی رائلٹی میں اضافے پر وفاقی حکومت کو خط لکھا ہے، گیس پرٹیکس عائدکرنےسےپہلےصوبوں سےمشاورت کی جائے، نئے مالی سال کے دوران 40ہزار ملازمتوں کے مواقع دیے جائیں گے، ہمیں توقع ہے کہ وفاق نئے مالی سال رقم کی فراہمی یقینی بنائے گا، مزدور کی کم سے کم تنخواہ 11ہزار روپے ہوگی، 65ہزار افراد کو ہنر مندی کی تربیت دی جائے گی، کراچی کے لیے 42ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے، توانائی کے شعبے کے لیے 20ارب روپے مختص کیے ہیں، بجٹ حجم موجودہ مالی سال کے بجٹ حجم سے 11فیصد زیادہ ہے، اگلےمالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ کیلئے 168ارب روپےمختص کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا مزےد کہنا تھا کہ اگلے مالی سال کیلئے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ موجودہ سال کے بجٹ سے 17ارب کم ہے، سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے، خدمات پر سیلزٹیکس 16سے کم کر کے 15فیصد کر دیا گیا، منقولہ جائیدادوں پر 2فیصد اسٹیمپ ڈیوٹی عائد کر دی گئی، گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس کے بجٹ میں 20فیصد اضافہ کیا گیا ہے، صحت کے بجٹ میں 20فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کی مد میں 43ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تھرکول منصوبوں کے لیے 13 ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، کراچی آپریشن میں شہید ہونے والے سپاہیوں کے خاندانوں کی کفالت کریں گے، سیکیورٹی اداروں کو انتظامی اور مالی تعاون فراہم کرنے سے جرائم میں کمی آئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کو جدید اسلحہ اور تربیت دی جائے گی تاکہ دہشت گردوں سے مقابلہ کیا جائے، موجودہ انفرااسٹرکچر کی مرمت کےلیے 9ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، شہید پولیس افسران کے گھرانوں کے لیے زمین مختص کی جائے گی، اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کےلیے 25کروڑ 40لاکھ مختص کیے گئے ہیں، بلٹ پروف جیکٹس کی خریداری کے لیے 34کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، آئندہ مالی سال کے دوران پولیس میں 2ہزار نئی بھرتیاں کریں گے، تعلیم کا غیر ترقیاتی بجٹ 134ارب روپے سے زیادہ ہے، درسی کتب کی مفت فراہمی کےلیے 15ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.