7 دسمبر 2012
وقت اشاعت: 13:19
دسمبر کے سات دنوں میں35 سے زائد افراد قتل
اے آر وائی - کراچی میں قتل و غارت گری میں کمی نہیں آسکی ، ماہ دسمبر کے سات دنوں میں اب تک 35 سے زائد افراد کو قتل کیا جاچکا ہے ، سائٹ ایریا اور قائدآباد میں دو دستی بم حملے بھی کیے گئے ۔
کراچی میں حکومت اور انتظامیہ کے تمام تر دعووں کے باوجود امن و امان کی مخدوش صورتحال ٹھیک ہوکر نہیں دے رہی ، شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے کے باوجود ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے ، ماہ دسمبر کے سات دنوں میں اب تک 35افراد کو ابدی نیند سلایا جاچکا ہے ۔
پہلی دسمبر کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے ،اسی دن رینجرز نے منگھوپیر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک بڑا آپریشن بھی کیا جس میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں سمیت درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ، آپریشن کے دوران سلطان آباد سے بم بنانے کا ٹھکانہ بھی برآمد ہوا ، قائدآباد داود چورنگی کے قریب سیمنٹ کے گودام پر کریکر حملہ بھی کیا گیا ۔
دو دسمبر کو رواں ماہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ، دہشت گردوں نے مدرسے کے معلم ، پولیس اہلکار سمیت نو افراد کو قتل کردیا، ایم اے جناح روڈ نیو چالی سے دوافراد کی بوری بند لاشیں ملی ۔ بنارس میں واقع پٹھان کالونی میں ہوٹل پر بیٹھے شہریوں پر دستی بم حملہ بھی کیا گیا جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے ۔
تین دسمبر کو سیاسی کارکن سمیت پانچ افراد لقمہ اجل بنے ۔ چار دسمبر کو مسجد کے پیش امام سمیت دو افراد جان سے گئے ۔ پانچ دسمبر کو سیاسی کارکن سمیت چارخاندانوں کے چراغ گل کریے گئے ۔ چھ دسمبر کو پانچ افراد فائرنگ کا نشانہ بنے ۔
آج گارڈن میں چڑیا گھر کے قریب سے تین نوجوانوں کی بوری بند لاشیں ملی ۔ منگوپیر،لانڈھی اسپتال چورنگی اور سہراب گوٹھ کے علاقے جنجال گوٹھ میں بھی فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہوئے ۔ شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ۔