12 جون 2011
وقت اشاعت: 0:33
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اے آر وائی کی خبر پر نوٹس لے لیا
اے آر وائی - لاہور : لاہور پولیس نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کرنے کے بعد وائر لیس پرمقابلے کاپیغام جاری کردیا جبکہ گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ دبئی جانیوالا تھا ۔ چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے اے آروائی نیوزکی خبرپراز خود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی کو چودہ جون کو طلب کرلیا۔
عینی شاہدین کےمطابق نشترکالونی میں مقامی افراد نے مشکوک شخص کوپولیس کےحوالے کیا جس کے کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی ۔پولیس کےمطابق شہباز نامی نوجوان کو اس کے ساتھیوں نے چھڑوانے کی کوشش کی، جس پر فائرنگ کے تبادلے کےدوران گولی لگنے سے شہباز جاں بحق ہوگیا۔
موقع پر موجود لوگوں کا کہناہےکہ شہباز کے پاس کسی قسم کاکوئی اسلحہ موجود نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس مقتول نوجوان کی لاش ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے مختلف علاقوں میں گھماتی رہی۔ جس پر شہباز کےورثاء نے تھانہ شاد باغ کےسامنے احتجاج کیا ۔ مشتعل افراد نے ٹائر جلاکر سڑک بلاک کردی ۔