19 اگست 2011
وقت اشاعت: 19:25
کراچی واقعات،مقتولین کے ورثا کا وزیر اعلیٰ ہاؤس پر احتجاج
اے آر وائی - کراچی : کراچی کے مختلف علاقوں سے اغوا کے بعد قتل کیے گئے تین افراد کی نمازہ جنازہ لیاقت آباد میں ادا کی گئی۔ ورثاء میتیں لے کر وزیراعلی ہاؤس پہنچے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے شدید احتجاج کیا۔
کراچی سے امن جیسے روٹھ ہی گیا ،شہر میں خونریز فائرنگ اور بوری بند لاشوں سے گھروں میں صفِ ماتم بیچھ گئی ہے۔ یہ ہیں لیاقت آباد کے تین رہائشی محمد عرفان،محمد اظہر اور عظیم اللہ جو بدھ کے دن روزگار کے غرض سے لیاری گئے لیکن پھر انکی تشدد زدہ لاشیں بغدادی تھانے کی حدود سے ملیں۔ محمد عرفان کی ڈیڑہ سال قبل شادی ہوئی تھی،لیکن دہشت گردوں نے اسکے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا، بین کرتی عرفان اور اظہر کی مائیں صرف دہائیاں دینے کے سواء کچھ نہیں کرسکتیں ۔ تینوں افراد کی نمازہ جنازہ لیاقت آباد ڈاکخانے پر ادا کی گئی،نماز جنازہ میں متحدہ کے اراکین اور اہل محلہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے احتجاج بھی کیا، اور سڑکوں پر ٹائر بھی نذر ٓتش کیے۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم آفتاب کا کہنا تھا کہ حکومت جراہم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرے۔ نمازہ جنازہ کے بعد شرکائے جنازہ میتوں کے ساتھ وزیراعلی ہاؤس پہنچے اور شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ قتل ہونے والے افراد اپنا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں ، ورثاء کا کہنا ہے کہ حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوکر قیام امن کے لیے انتہائی اقدام کرے۔