27 اگست 2011
وقت اشاعت: 6:54
سندھ : سینکڑوں دیہات تاحال زیر آب
اے آر وائی - سیلاب متاثرین کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے تاہم نشیبی علاقوں کے دیہات زیر آب ہونے کے باعث متاثرین اپنے گھروں کے بجائے روڈ، سم نالوں اور نہروں کے کناروں پر انتظامیہ کی جانب سے خیموں میں رہائش پذیر ہیں ۔ سیم نالوں میں پانی کی سطح میں کمی آنے کے باوجود ساحلی علاقوں منگراجو ، سیرانی ، بگڑا میمن ، شادیلارج سمیت دیگر علاقوں میں سینکڑوں دیہات تاحال زیر آب ہے ۔ نہروں میں پانی کی بندش کے باعث ضلع بھر میں پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
بدین شہر میں اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی ہدایت کے بعد ہنگامی بنیادوں پر لگائے گئے چھ فلٹر پلانٹ سے پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ ٹنڈو محمد خان متعدد گاؤں میں سیلاب کا پانی تاحال موجود ہے نواحی گاؤں سعید خان لوند، اللہ یار ترک سمیت سینکڑوں گاؤں میں پانی ابھی تک جمع ہے جس کے باعث مچھروں اور بیماریاں پھوٹ پڑی ہے جس کی وجہ سے سیلاب متاثرین کو مشکلات کا سامناہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے دیہات میں ابھی تک اسپرے نہیں کیا گیا جس کے باعث سیلاب متاثرین اور مویشیوں میں مختلف بیماریاں پیدا ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ریلیف کیمپوں میں موجود سیلاب متاثرین میں ابھی تک خوراک کی فراہمی نہیں کی گئی ۔ سیکریٹری بلدیات علی محمد لوند کا گاؤں کا بھی سیلاب کی نذر ہوگیا جبکہ وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر کا گاؤں بھی ابھی تک زیرآب ہے۔ ایم پی اے محمد نواب چانڈیو کے گاؤں میں بھی سات فٹ پانی موجود ہے۔