8 نومبر 2011
وقت اشاعت: 11:1
مردے بھی محفوظ نہیں!گڈاپ کے قبرستان سے 40 لاشیں غائب
اے آر وائی - اسے پاگل پن کہیں، لالچ یا توہم پرستی کہ اب مردے بھی محفوظ نہیں رہے۔ کراچی میں گڈاپ کے قبرستان میں چالیس قبریں کھود کر لاشیں غائب کردی گئیں۔ کراچی کے علاقے ناظم آباد میں قبروں سے خواتین کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرنے کے گھناؤنے واقعے کے بعد گڈاپ کے غلام محمد جوکھیو گوٹھ میں رونگھٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں کے قبرستان میں چالیس قبروں کو کھودکر مردے یا ہڈیاں نکال لی گئیں۔
کھودی گئی قبریں پانچ سے دس سال پرانی ہیں اور انہیں گزشتہ پانچ روز سے ایک ماہ کے عرصے میں کھودا گیا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ ماہ قبل بھی غلام محمد جوکھیو گوٹھ کے قریب واقع ایک اور قبرستان میں اس طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔ تاہم وہاں لوگوں نے ایک اطائی ڈاکٹر کو قبریں کھودتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا تھا۔ اس کا کلینک بند کرکے اسے علاقے سے نکال دیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ اطائی ڈاکٹر مردے کی ہڈیوں سے دوائیاں اور تعویذ بنانے کا کام کرتا تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اُسی اطائی ڈاکٹر کو چند روز قبل دوبارہ اسی قبرستان کے قریب دیکھا گیا۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد قبرستانوں میں نگرانی کا عمل بڑھانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ ساتھ ہی جعلی عاملوں اور اطائیوں کیخلاف بھی بھرپور کارروائی کی ضرورت ہے جو نواحی علاقوں اور دیہات میں سادہ لوح لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔