2 جون 2012
وقت اشاعت: 20:19
فیصل آباد: ننھا عمر آہوں، سسکیوں میں سپرد خاک
اے آر وائی - فیصل آباد میں ہیڈ ماسٹر کے سخت گیر اور توہین آمیز رویے سے دلبرداشتہ ہو کر خودسوزی کرنے والے کم سن طالب علم عمر کی نماز جنازہ ادا کرکے تدفین کر دی گئی ہے۔ والدین اپنے اکلوتے بیٹے کے انتقال پر انتہائی غمزدہ ہیں اور علاقے کی فضا بھی سوگوار ہے۔ ععمر کی وفات کے سوگ میں یاسین آباد میں واقع اس کے تعلیمی ادارے ایم سی ایلیمنٹری اسکول میں ایک روزکی تعطیل کی گئی۔
عمر زندگی کی بازی ہار گیا ۔ تین دن چھٹی کے بعد بڑے مان سے بستہ تھام کر ایم سی ایلیمنٹری اسکول گیا تھا لیکن ہیڈ ماسٹر نے گھر واپس بھیج دیا اور کہہ دیا اپنے والد کو شناختی کارڈ کے ہمراہ اسکول بھیجنا پھر تمہارے مقدر کا فیصلہ کروں گا ۔
باپ غریب طبقے کا فرد اور ان پڑھ تھا بے عزتی کے خوف سے بیٹے کو منع کردیا کہ میں اسکول نہیں جا سکتا درخواست دے دینا استاد مان جائے گا ۔ عمر سمجھ گیا اب اسکول میں اس کی پٹائی اور بے عزتی یقینی ہے اسی لیے اس نے دل دہلا دینے والا فیصلہ کرلیا مٹی کا تیل خریدا اور خود کو آگ لگا لی ۔ اور پھر کئی گھنٹے الائیڈ اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا ماں اکلوتے بیٹے کے غم میں انگاروں پر لوٹتی رہی اور بیٹا جھلسے ہوئے بدن کے باوجود اسے تسلی دیتا رہا ہے اپنا خیال رکھنا ماں مجھے معاف کرنا۔ عمر کا انگ انگ جل چکا تھا صرف سانسیں باقی تھیں سو وہ بھی تھم گئیں۔
عمر ماں اور باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اس کی تو عمر بھی اتنی نہ تھی چھٹی جماعت کا طالب علم اور گیارہ برس۔ عمر ننھی عمر میں جاں سے گذر گیا اس کی موت ہمارے سماج کے منہ پر طمانچہ ہے جو پھول سے بچوں اور ننھے زہنوں کی شگفتگی اور حساسیت کا بھی خیال نہیں رکھتے ۔