2 جون 2012
وقت اشاعت: 20:46
ٹیچرکے مارنےپر مبین پھندے پر جھول گیا
اے آر وائی - انگلش کی کلاس میں اردو بولنے کی سزا ملنے اور ٹیچرکے مارنےپرایبٹ آباد کامبین پھندے پر جھول گیا۔ ساتویں جماعت کےطالب علم نے ڈائری میں حقیقت بیان کردی۔ اپنی امی سے بھائی بہن کو ہاسٹل نہ بھیجنے کی التجا۔
مبین کتنا حساس تھااس کا اندازہ اس کے والدین کوبھی نہ تھا ورنہ وہ کبھی اسےہاسٹل نہ بھیجتے۔ پاکستان انٹرنیشنل پبلک اسکول کے اس طالب علم نے سولہ اپریل کو ہاسٹل میں بیٹھ کر جو ڈائری لکھی دراصل یہی تحریر اس کی موت کی وجہ جاننے کے لیے کافی ہے۔
مبین لکھتا ہے آج میرے ساتھ ایک واقعہ ہوا ۔ جب میں کلاس میں تھا تو ہمارے انگلش کے استاد کی پڑھائی کا وقت تھا ۔استاد نے کام دیا میں نے ان سے پوچھا،کیا سوال وجواب بھی لکھنے ہیں تو استاد نے مجھے کلاس روم سے باہر بلالیا کیونکہ اس نے کہا تھا کہ اردو بولنے پر پانچ روپے جرمانہ ہوتا ہے۔ اس نے کچھ پوچھے بغیر میری شرٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال دیا جس میں میری ماں کی تصویر تھی استاد نے وہ تصویر چھپا لی لیکن میں رونے لگا جس پر اس نے تصویر واپس میری جیب میں ڈال دی لیکن کچھ دیر بعد اس نے مجھے اتنا شدید مارا جتنا کبھی میرے ابو نے بھی مجھے نہیں مارا تھا ۔
مبین کی ڈائری میں اور بھی بہت کچھ لکھا تھا لیکن اپنی موت کی وجہ تو اس نے پیر کے روز سولہ اپریل کو لکھ دی تھی ۔ زندگی سے بہت پیار کرنے والے مبین نے ستائیس مئی کو گلے میں پھندا لگا کر اپنی ننھی سانسیں روکی تھیں۔ لیکن وہ تو اسی روز مر گیا تھا جب انگلش کے استاد نے اس سے توہین آمیز سلوک کیا ۔ جیب سے ماں کی تصویر نکالی اور پھر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔ مبین اپنی ڈائری میں سماج کا المیہ لکھ کر آسمانوں کو پرواز کرگیا۔