13 اگست 2012
وقت اشاعت: 12:17
سانحہ بابڑہ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا،شاہی سید
اے آر وائی - عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ سانحہ بابڑہ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب کا اضافہ ہے جب بارہ اگست 1948 امن کے علمبرداروں اور انسانیت کا پرچار کرنے والوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی اور سات سو نہتے انسانوں نے ایک عظیم تحریک کے لیے اپنے خون کا نذرانہ دیاخدائی خدمت گاروں پر ظلم و ستم کی انتہاء کردی گئی ہزاروں انسان اندھی گولیوں کی وجہ سے زخمی ہوئے اور زخمیوں کو طبی امداد دینے سے بزور طاقت روکا گیا جس سے شہداء کی تعداد میں اضافہ ہواشہداء اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ)کے چیئر مین سینیٹر شاہی سید نے سانحہ بابڑہ کی چونسٹھ ویں برسی کے موقع پر باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شاید انسانی تاریخ کا واحد واقعہ ہے جس میں شہیدوں کے اہل خانہ اور زخمیوں سے اس وقت کی حکومت نے گولیوں کے پیسے بھی وصول کیے اور اس اتنے بڑے پیمانے پر خون ریزی ہونے کے باوجود کسی خدائی خدمت گار نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جو کہ رئیس الاحرار باچا خان بابا کی تربیت کا نتیجہ تھااور جو بچ گئے ان کو گرفتار کرکے زندانوں میں ڈال کر بد ترین تشدت کا نشانہ بنایا
انہوں نے مذید کہا کہ جس سفاک انسان کے کہنے پر بابڑہ کی زمین کو خدائی خدمتگاروں کے خون سے رنگ دیا گیا تھا اس کا آج کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے اور شاید کوئی اس کے نام سے بھی واقف نہ ہو مگر باچا خان بابا کا قافلہ آج بھی بھر پور طریقے سے اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور آج مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی قیادت میں اپنے اسلاف کے دیرینہ ارمانوں کو پورا کردیا ہے آج کا دن ہم سب کے لیے اس عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم اکابرین عدم تشدت اور انسانی خدمت سبق اور اپنے شہداء کی قربانیوں پر عمل کرتے ہوئے تحریک کے لیے شب و روز محنت کریں۔