تازہ ترین سرخیاں
 شہر شہر کی خبر 
5 ستمبر 2012
وقت اشاعت: 21:25

کراچی بارش:انتظامیہ کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی

اے آر وائی - مون سون بارشوں کا سلسلہ جو ایک روز پہلے ہی ملک میں آیا تھا۔آخر کار کراچی تک بھی پہنچ گیا۔ لیکن باران رحمت کے ساتھ ہی انسان کی پیدا کی ہوئی زحمتیں بھی پیدا ہوگئیں۔ بائیک پر سفر کرنے والوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی کی موٹر سائیکل بند ہوئی تو کسی کی موٹر سائیکل پنکچر ہوگئی۔ اور پھر شہر کی کئی اہم شاہراہیں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، حسن اسکوائر ، گولیمار پر گاڑیاں دور دور تک کھڑی تھیں۔



دوسری بڑی پریشانی بن کر آئی بجلی۔ جو آئی نہیں تھی بلکہ فورا چلی گئی۔ بارش کے پہلے چھینٹے کے بعد تین سو فیڈرٹرپ ہوگئے تھے۔ تار گرنے کی وجہ سے بھی کئی علاقے بجلی سے محروم ہوئے کے ای ایس سی کے دو سو فیڈر ٹرپ کرگئے۔ جس سے گلستان جوہر،گلشن اقبال، صدر، بلوچ کالونی، ملیر اور شارع فیصل سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔



محکمہ موسمیات نے نوید دی ہے کہ ابھی بارش کا سلسہ ختم نہیں ہوا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں آئندہ دو روز تک وقفے وقفے سے بارش ہوگی۔ ابر کرم برستے ہی انتظامیہ کے دعووں کی بھی قلعی کھل گئی۔ بعض مقامات پرنشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ شہر کی اہم شاہرائوں پر ہو گیا ٹریفک جام ۔ سڑکوں نے کیا تالاب کا منظر پیش۔ سنگنلز نے کام کرنا چھوڑا ،ٹریفک اہلکار بھی رہے غائب۔ ٹریفک جام کے باعث اسکولوں اور دفاتر سے واپس جانیوالے شکار رہے پریشانی کا۔



شہریوں کا کہنا تھا کہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،انتظامیہ ہے کہاں۔ تیز ہوائوں اور بارش کے باعث کئی سائن بورڈز بھی گرے ۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے بعد بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے نکاسی آب کے پیشگی انتظامات موثر ثابت نہ ہوسکے۔ شہر کے بیشتر مقامات پر نکاسی آب اور سیوریج کا پانی جمع ہوگیا۔



کراچی اوراندرون سندھ بارش کے باعث ٹرینوں کی آمد ورفت میں دس سے بارہ گھنٹوں کی تاخیرسے مسافروں کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ بارش سے ریلوے کا الیکٹریکل سسٹم بند ہو گیا ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.