27 ستمبر 2012
وقت اشاعت: 18:22
سندھ ہائیکورٹ:آسٹریلین بھیڑ کیس،حکم امتناع میں توسیع
اے آر وائی - سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے 22000 آسٹریلین بھیڑوں کے کیس میں ان کے اتلاف کے خلاف اپنے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی ہے جبکہ آج عدالتی میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ پیش کردی۔
آج کی سماعت کے دوران بھیڑوں کے درآمد کندہ کے وکیل عدنان میمن نے اسٹریلیا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کا ایک خط پڑھ کرسنایا۔ اس خط کے مطابق ان بھیڑوں کو منہ سے پانی رسنے کی بیماری کے باعث بحرین میں اتارنے سے روک دیا گیا تھا اور ان کے خون کے نمونوں کے تجزئے کے بعد صحتمند بھڑوں کو جہاز سے اتارنے کی اجازت دیدی گئی تھی لیکن اس دوران جہاز کے برتھ پر کھڑے رہنے کی مدت ختم ہوگئی اور اسے برتھ چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔
فاضل وکیل نے مزید بتایا کہ پاکستان میں جانوروں کی تین لیبارٹریز جو اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد میں ہیں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں۔ اسلام آباد کی لیبارٹری نے ان بھیڑوں کو صحتمند قرار دیا لیکن سندھ کی دو پولٹری لیبارٹریوں نے بھڑوں کے بیمار ہونے کی رپورٹ دی حالانکہ یہ لیبارٹریاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہیں۔ ان کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے بھیڑوں کو تلف کرنا شروع کردیا۔ آج صوبائی سیکریٹری لائیو اسٹاک نے اپنے دلائل کے دوران مبنیہ طور پر اینتھریکس سے ہلاک ہونے والی بھیڑوں کے خون کے نمونوں کا ذکر کیا تو عدالت نے انہیں یاد دلایا کہ شروع میں وہ کہہ چکے ہیں کہ ان ہلاک ہونے والی بھیڑوں کے نمونے حاصل نہیں کیئے گئے تھے۔
آج عدالت کی طرف سے قائم کیئے گئے میڈ یکل بوڑد نے اپنی رپورٹ پیش کردی جس میں کہا گیا تھا کہ بھیڑوں میں اینتھریکس کی بیماری کے شواہد نہیں ملے۔ مزید کاروائی کل ہوگی۔