تازہ ترین سرخیاں
 شہر شہر کی خبر 
29 ستمبر 2012
وقت اشاعت: 19:44

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے از سرنو تشکیل کردی گئی

اے آر وائی - سندھ میں بلدیاتی اداروں کے از سرنو تشکیل کردی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں پانچ میٹروپولیٹن اور اٹھارہ ڈسٹرکٹ کونسل قائم کردی گئی ہیں جبکہ بلدیاتی ادوروں کے طور پرایک مرتبہ پھر کراچی اٹھارہ ٹاؤنز میں تقسیم ہوگیا ہے ۔



محکمہ بلدیات نے نئے بلدیاتی آرڈیننس کے اکیس روز بعد صوبے میں بلدیاتی اداروں کی ازسرنو تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اب ان اداروں میں سرکاری افسران کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا جن کے نوٹیفکیشن بھی جلد متوقع ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی ازسرنو تشکیل کے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق میٹروپولیٹن میں اب چیف آفیسر اور ڈسٹرکٹ کونسل میں چیف میونسپل آفیسر تعینات کئے جائیں گے ۔



واضح رہے کہ سات ستمبر کو گورنر سندھ کی جانب سے پیپلزمیٹروپولیٹن آرڈیننس دوہزار بارہ جاری کیا گیا تھا اس کے مطابق حیدرآباد، کراچی، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ میٹروپولیٹن کا درجہ دیا گیا تھا باقی اٹھارہ اضلاع کو ڈسٹرکٹ کونسل کا درجہ دیا گیا ۔ آرڈیننس کے مطابق میٹروپولیٹن کے پاس سول ڈیفنس، کمیونٹی ڈیلولپمنٹ، فشریز، سوشل ویلفیئر، اسپورٹس، کلچرل ،کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے کچھ فنکشنز ہونگے اسی طرح بلدیاتی اداروں کے ماتحت پرائمری اسکول اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ،بلدیاتی اداروں کا فنانسڈیپارٹمنٹ،بلدیاتی اداروں کو بجٹ بنانے کا اختیار، بلدیاتی اسپتال، کے ایم سی ، کے ڈی اے لینڈ ، پراپرٹی ٹیکس ، ہاؤسنگ ، ڈسٹرکٹ روڈاور بلڈنگ ضلعی حکومتوں کا حصہ ہونگی۔



میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت ماسٹر شہر کا ماسٹرپلان ، اربن پلاننگ ، بلدیاتی حدود میں لینڈ یوز کنٹرول اینڈ لینڈ مینجمنٹ ،اینٹی انکروچمنٹدی گئی ہیں مسودہ کے مطابق پانی کی فراہمی ،اس کی اسٹوریج اور تقسیم ، ٹریٹمنٹ پلانٹ، سیوریج نظام ،ہیومن ریسورس مینجمنٹ ، لٹریسی کمپین، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، پبلک ٹرانسپورٹ، ماس ٹرانزٹ پیسنجر ،ٹریفک پلاننگ ،پارکس پلے گراؤنڈ ، ریجنل مارکیٹ ، کمرشل سینٹر زہوگی۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے پاس بھی تمام سوک ادارے جو1979کے بلدیاتی نظام میں تھے وہ ان کے انتظام کے تحت ہوں گے ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.