3 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 18:6
نئے بلدیاتی نظام کے خلاف قوم پرست جماعتوں کا احتجاج جاری
اے آر وائی - سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف تیسرے روز بھی قوم پرست جماعتوں، سول سوسائٹی اور وکلاء کی جانب سے حیدرآباد میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کئے گئے۔ نئے بلدیاتی نظام کے بل کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے خلاف مختلف قوم پرست جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اولڈ کیمپس سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جس میں شریک افراد نئے بلدیاتی نظام کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔
اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے دوہرا بلدیاتی نظام نافذ کرکے سندھ کو تقسیم کرنے کی بنیاد رکھہ دی ہے اور احتجاج کرنے پر قوم پرست کارکنوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ سندھ کی تقسیم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت بھی قبول نہیں ہے، عوام اپنی جانیں قربان کرکے دھرتی کی حفاظت کریں گے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد نے بھی دوہرے بلدیاتی نظام کے خلاف سیشن کورٹ کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وکلاء رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں نافذ کیا گیا دوہرا بلدیاتی نظام فوری طور پر واپس لیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔