7 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 22:27
رواں سال کراچی میں1700افرادقتل ہوئے، پولیس
اے آر وائی - سندھ پولیس کے اعدادو شمار کے مطابق رواں سال کراچی میں سترہ سوسے زائد افراد قتل ہوئے جن میں سے 312ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنے۔
نوجوان عبدالحکیم جو نیوکراچی ٹاون آفس میں چوکیدار کی حیثیت سے فرائض انجام دیتا تھا۔ نامعلوم مسلح افراد نے اس نوجوان کو دوران ڈیوٹی گولیاں مار کر زندگی سے محروم کردیا۔ کم عمری میں ہی یتیمی کے داغ نے عبدالحکیم کے بچوں کے چہروں پر ڈیرا ڈال دیا ہے۔ واحد کفیل کی المناک موت پر گھر میں کہرام مچ گیا۔
سولجر بازار نمبر تین میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ٹیلر ماسٹر ذاکر السلام کو قتل کردیا۔ دہشتگردوں نے مقتول کے معصوم بچوں کو والد کے سائے شفقت سے محروم کردیا۔ کرچی میں دہشتگردی کی لہر جاری ہے ماوٴں کی گودیں اجڑ رہی ہیں اور بچے والدین سے محروم ہورہے ہیں۔
ستمبر کے مہینے میں ایک سو چوداں افراد دہشتگردی کا نشانہ بنے جن میں پولیس کے 65 آئی بی کے چار اور رینجرز کے دو اہلکار شامل ہیں۔