21 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 22:58
کراچی میں تشدد واقعات میں پانچ افراد جان سے چلے گئے
اے آر وائی - کراچی میں امن کا قیام محض خواب بن گیا ہے ۔ آج بھی مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پهرتشدد واقعات میں پانچ افراد جان سے چلے گئے ۔ وزیر اعلی سندھ کہتے ہیں کہ کراچی میں فوج بلانے کی ضرورت نہیں۔
کراچی میں قتل و غارت گری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اورنگی ٹآئون پانچ نمبر میں پیٹرول پمپ کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو موت کی نیند سلا دیا ۔ نیوکراچی فائیو جے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے فہیم نامی شخص جان بحق ہوا جبکہ دوسرا شخص زخمی ہوا۔ سپر ہائی وے جنجال گوٹھ سے نامعلوم شخص کی چار سے پانچ روز پرانی لاش ملی ۔ سہراب گوٹھ انڈس پلازہ کے قریب فائرنگ سے نصرت اللہ زندگی کی باز ی ہار گیا۔
باغ کورنگی میں قبرستان کے قریب فائرنگ سے ستائس سالہ عامرجاں بحق ہوا،ٹیپو سلطان، گارڈن اور نیو کراچی ایوب گوٹھ میں بھی فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے ۔ ان حالات میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں فوج بلانے کی ضرورت نہیں سندھ حکومت امان امان قائم کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے ۔
دوسری جانب سندھ ریینجرز نے جرائم پیشہ افراد کے خلا مختلف علاقوں میں کارروائی کی اور نو ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے دس پستول، ہینڈ گرنیڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردیاں برآمد کرلیں۔