1 نومبر 2012
وقت اشاعت: 10:10
کراچی:بدامنی کا سلسلہ بدستور جاری
اے آر وائی - کراچی میں بد امنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ صبح سویرے رام سوامی اور ریڈیو پاکستان کے قریب سے دو لاشیں برآمد ہوئیں۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں اے این پی کےتین کارکنوں اور پولیس اہلکارسمیت گیارہ افرادزندگی کی بازی ہارگئے۔
پولیس کے مطابق لانڈھی شیر پاؤ کالونی میں مسلح موٹر سائیکل سواروں نے سیاسی جماعت کے دفتر پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے تین افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگئے۔ مقتولین کی شناخت محمد سلیم،محمد ساجد اور عابد خان کے نام سے ہوئی۔
جناح اسپتال میں اےاین پی سندھ کے جنرل سیکرٹری بشیر جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کارکنان کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے،قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں امن و امان بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔
گلستان جوہر بلاک سولہ سے بارہ سالہ لڑکے کی تشدد زدہ لاش ملی ۔ قصبہ کالونی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس میں ایک شخص اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پولیس کے مطابق نارتھ ناظم آباد حیدری مارکیٹ کے قریب مسلح موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے بیالیس سالہ شبیر جاں بحق ہوگیا۔
اتحاد ٹاؤن میں مسلح افراد ڈکیتی کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے اورمزاحمت پر فائرنگ کر دی جس سے خاتون ہلاک اور دو بچے زخمی ہوگئے۔ گلستان جوہر بلاک پندرہ میں فائرنگ سےپی ٹی ٹیچرسعید منصوری اور اسکول کا سیکورٹی گارڈ ممتاز علی شدید زخمی ہوا۔ منصوری نےاسپتال منتقلی کےدوران دم توڑدیا۔ میمن گوٹھ میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ڈاکووں کی فائرنگ سے اے ایس آئی رفیق خاصخیلی زخمی ہوا جسے طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کیا گیاتاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگیا ۔