2 نومبر 2012
وقت اشاعت: 4:42
کراچی : سرعام2نوجوان قتل،پولیس کومعلوم ہی نہیں کون مرا
اے آر وائی - ایک جانب سپریم کورٹ کراچی میں بد امنی کی وجوہات جاننے میں مصروف ہے تو دوسری جانب پولیس کو یہ پتہ ہی نہیں کہ سر عام دو نوجوانوں کو کس نے قتل کیا۔ پہلے انہیں ڈاکو قرار دیا گیا اور جب گھر والے اسپتال پہنچے تو مرنے والوں کو مظلوم قرار دے دیا۔ پولیس کو یہ بھی پتا نہیں کہ اس کے اہلکاروں نے فائرنگ کس پر کی تھی۔
جی ہاں یہ ہے کراچی کی پولیس۔۔۔ ایک تھانے میں موٹر سائیکل پر جانے والے دو نوجوانوں کو سر عام موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔۔ پہلے تو پولیس نے اپنے رینک چمکانے کے لئے انہیں ڈاکو قرار دے کر پولیس مقابلے میں ہلاک قرار دیا۔ میڈیا پر خبر چلی تو گھر والوں کو تشویش ہوئی ڈھونڈتے ہوئے عباسی شہید اسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اپنے ہی پیارے خون میں نہائے ہوئے ہیں۔
معلوم ہوا کہ یہ نوجوان ڈاکو نہیں قصاب تھے ، جو عید پر کاٹے گئے قربانی کے جانور کا معاوضہ لینے جا رہے تھے ، پولیس کو خطرے کا احساس ہوا تو بیان ہی بدل دیا۔ کہا چار ڈاکو آئے پولیس نے پیچھا کیا ، ڈ اکو ایک گلی میں گھسے جہاں سے دو لاشیں ملیں ، لاشوں کے پاس اسلحہ بھی پڑا تھا جو ڈاکو پھینک کر چلے گئے ، کیا پولیس نے اصلی ڈاکوؤں کو فائرنگ کر تے ہوئے دیکھا ۔
کیا پولیس کو یہ بھی معلوم نہیں تھاکہ ڈاکو کون ہے اور بے گناہ کون ، پولیس نے مقتولوں کو ڈاکو کیسے قرار دیا۔اور پھر اپنا بیان کیوں بدلہ۔۔۔۔کیا مقتولین کا کیاجانے والا پوسٹ مارٹم اس راز سے پردہ اٹھا سکے گا۔۔۔کہ مقتولین کے جسموں سے گولیاں پولیس کے اسلحے سے چلائی گئی تھیں یا ڈاکوؤں کے پستولوں سے۔۔