27 نومبر 2012
وقت اشاعت: 12:5
نولود کو چوہوں کے کاٹنے پر رسمی کارروائی
اے آر وائی - راولپنڈی کے ہسپتال ہولی فیملی میں پیدا ہو نےو الے نومولود بچے کو چوہے کے کانٹنے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی نے وارڈ کے چار اہلکار، وارڈ انچارج اور ایم ایس کو معطل کرنے کی سفارش کر دی ۔ اے آر وائی کی فوٹیج کے ساتھ خبر پر فوٹیج پر انتظامیہ حرکت میں تو آئی۔ خادم اعلیٰ پنجاب کا حسب معمول سخت نوٹس بھی کوئی معجزہ نہ دکھا سکا۔ ہولی فیملی اسپتال کی گائنی میں نولود کو چوہوں کے کاٹنے پر رسمی کارروائی ہو رہی ہے۔ ذمہ داران کا تعین نہیں ہو سکا۔
چار اہلکاروں کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بس۔ یہ کون ہیں اور کیا عہدہ رکھتے ہیں یہ بھی چھپایا جا رہا ہے۔ ہولی فیملی اسپتال میں گندگی کےڈھیر اور غفلت کےباعث چوہےخوب پھل پھول رہے ہیں۔ چوہےجب چاہیں ،جس وارڈ میں چاہیں،مٹرگشت کرتےہیں۔ گائنی وارڈ میں نومولود بچے پرچوہوں نے حملہ کرکے اسے شدیدزخمی کردیا۔
سرائے خربوزہ کے رہائشی توقیراحمد کی اہلیہ راحیلہ بی بی گائنی وارڈ میں داخل تھیں۔ اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی۔ نرسنگ اسٹاف نے نومولودبچے کووارڈ میں محفوظ جگہ پرمنتقل کرنے کی بجائےاوپن ایریا میں ایک ٹیبل پررکھ دیا۔جس کےبعد گندگی اور غلاظت کے ڈھیرپرپلنےوالے چوہوں نے معصوم بچے کو نوچناشروع کردیا۔ بچہ شدید زخمی ہوگیا ۔ بعد میں نومولود کو انکو بیتر میں رکھ دیا گیا۔ اب بچے کی حالت قدرے بہتر بتائی جا رہی ہے۔