تازہ ترین سرخیاں
 شوبز 
20 جنوری 2015
وقت اشاعت: 19:54

شاعر اور ادیب جمیل الدین عالی کی 90 ویں سال گرہ

جیو نیوز - کراچی..........ممتاز شاعر اور ادیب جمیل الدین عالی آج اپنی 90 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ مرزا جمیل الدین احمد نام اور عالی تخلص 20جنوری 26 19ء کو پیدا ہوئے۔ سالگرہ کے موقع پر ان کے گھر والے اور دوست احباب ان کے گھر پر اکھٹے ہوئے۔ جمیل الدین عالی ادب کی دنیا میں پاکستان کے ممتاز ناموں میں سے ایک ہیں۔ وہ مقبول شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ اچھے نقاد، کالم نویس اور کہانی نویس بھی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عالی جی اپنی ذات میں ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جمیل الدین عالی کو کئی ایوارڈ ز بھی ملے۔ جن میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی شامل ہے۔ ان کی غزلوں، دوہوں اور گیتوں نے دلوں کو چھوا، سبھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن ان کے ملی نغمے جیوے جیوے پاکستان نے عالی جی کو جو ابدی شہرت دی وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔جمیل الدین عالی ادب کی دنیا میں پاکستان کے ممتاز ناموں میں سے ایک ہیں ۔ وہ مقبول شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ اچھے نقاد، کالم نویس اور کہانی نویس بھی تھے۔
خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمہیں
پکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمہیں
شاعری کے آغاز میں ان کا پہلا تخلص مائل تھا جو بعد میں عالی ہوا۔ویسے تو عالی نے شاعری کی تمام اصناف سے انصاف کیا لیکن دوہا نگاری میں ان کو جو مقام ملا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔
تہ میں بھی ہے حال وہی جو تہ کے اوپر حال
مچھلی بچ کر جائے کہاں جب جَل ہی سارا جال
تصنیف ادب کےلئے یہ بات اہم ہے کہ کوئی نیا رخ، نئی جہت، کوئی نئی راہ ادیب کے نام سے منسوب ہوجائے۔عالی کو یہ بہترین مقام ملا۔ جیسے دوہانگاری اور جمیل الدین عالی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔جمیل الدین عالی کو کئی ایوارڈ ز بھی ملے۔ صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا۔انجمن ترقی اردو کی باگ ڈور اگر عالی نہ سنبھالتے تو یہ انجمن آج صرف کتابوں میں ہی زندہ ہوتی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.